حَقِیْقٌ
عَلٰۤی
اَنْ
لَّاۤ
اَقُوْلَ
عَلَی
اللّٰهِ
اِلَّا
الْحَقَّ ؕ
قَدْ
جِئْتُكُمْ
بِبَیِّنَةٍ
مِّنْ
رَّبِّكُمْ
فَاَرْسِلْ
مَعِیَ
بَنِیْۤ
اِسْرَآءِیْلَ
۟ؕ
میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریّت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“ 1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» او
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭…
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے