العنكبوت 29:65 فاذا ركبوا في الفلك دعوا الله مخلصين له الدين فلما نجاهم الى البر اذا هم يشركون ٦٥
فَاِذَا
رَكِبُوْا
فِی
الْفُلْكِ
دَعَوُا
اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ
لَهُ
الدِّیْنَ ۚ۬
فَلَمَّا
نَجّٰىهُمْ
اِلَی
الْبَرِّ
اِذَا
هُمْ
یُشْرِكُوْنَ
۟ۙ
پس جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں ، اسی کے ليے دین کو خالص کرتے ہوئے، پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو وہ فوراً شرک کرنے لگتے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام و بقا کی زندگی ہے۔ وہ زوال و فنا سے، قلت و ذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجی
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہ