وَمَا
هٰذِهِ
الْحَیٰوةُ
الدُّنْیَاۤ
اِلَّا
لَهْوٌ
وَّلَعِبٌ ؕ
وَاِنَّ
الدَّارَ
الْاٰخِرَةَ
لَهِیَ
الْحَیَوَانُ ۘ
لَوْ
كَانُوْا
یَعْلَمُوْنَ
۟
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی کی جگہ ہے، کاش کہ وہ جانتے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہے۔ البتہ دار آخرت کی زندگی دوام و بقا کی زندگی ہے۔ وہ زوال و فنا سے، قلت و ذلت سے دور ہے۔ اگر انہیں علم ہوتا تو اس بقا والی چیز پر اس فانی چیز کو ترجی
جب عکرمہ طوفان میں گھر گئے ٭٭…
دنیا کی حقارت و ذلت، اس کے زوال و فنا کا ذکر ہو رہا ہے کہ اسے کوئی دوام نہیں، اس کا کوئی ثبات نہیں۔ یہ تو صرف لہو و لعب ہ