وَلَا
تُجَادِلُوْۤا
اَهْلَ
الْكِتٰبِ
اِلَّا
بِالَّتِیْ
هِیَ
اَحْسَنُ ۖۗ
اِلَّا
الَّذِیْنَ
ظَلَمُوْا
مِنْهُمْ
وَقُوْلُوْۤا
اٰمَنَّا
بِالَّذِیْۤ
اُنْزِلَ
اِلَیْنَا
وَاُنْزِلَ
اِلَیْكُمْ
وَاِلٰهُنَا
وَاِلٰهُكُمْ
وَاحِدٌ
وَّنَحْنُ
لَهٗ
مُسْلِمُوْنَ
۟
اور تم اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو بہتر ہے، مگر جو ان میں بے انصاف ہیں اور کہو کہ ہم ایمان لائے اس چیز پر جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس پر جو تمھاری طرف بھیجی گئی ہے ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کی فرماں برداری کرنے والے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو ٭٭…
قتادۃ رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو یا لڑائی لڑیں۔ لیکن اور بزرگ مفسرین کا قول ہے کہ یہ حکم باقی ہے جو یہودی یا نصرانی دینی امور کو سجھنا چاہے اور اسے مہذب طریقے پر سلجھ
غیر مسلموں کو دلائل سے قائل کرو ٭٭…
قتادۃ رحمہ اللہ وغیرہ تو فرماتے ہیں کہ یہ آیت تو جہاد کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے اب تو یہی ہے کہ یا تو اسلام قبول کرو