الأنبياء 21:47 ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شييا وان كان مثقال حبة من خردل اتينا بها وكفى بنا حاسبين ٤٧
وَنَضَعُ
الْمَوَازِیْنَ
الْقِسْطَ
لِیَوْمِ
الْقِیٰمَةِ
فَلَا
تُظْلَمُ
نَفْسٌ
شَیْـًٔا ؕ
وَاِنْ
كَانَ
مِثْقَالَ
حَبَّةٍ
مِّنْ
خَرْدَلٍ
اَتَیْنَا
بِهَا ؕ
وَكَفٰی
بِنَا
حٰسِبِیْنَ
۟
Qayamat ke roz hum theek theek toalne waley tarazu rakh dengey, phir kisi shaks par zarra barabar zulm na hoga. Jiska rai (mustard seed) ke daane ke barabar bhi kuch kiya dhara hoga woh hum saamne le aayenge aur hisaab lagane ke liye hum kafi hain
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭…
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ” کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ا
ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭…
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، ا