یَوْمَ
نَطْوِی
السَّمَآءَ
كَطَیِّ
السِّجِلِّ
لِلْكُتُبِ ؕ
كَمَا
بَدَاْنَاۤ
اَوَّلَ
خَلْقٍ
نُّعِیْدُهٗ ؕ
وَعْدًا
عَلَیْنَا ؕ
اِنَّا
كُنَّا
فٰعِلِیْنَ
۟
جس دن ہم آسمان کو لپیٹ دیں گے جس طرح طومار میں اوراق لپیٹ دئے جاتے ہیں جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی، اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے اور ہم اس کو کرکے رہیں گے
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭…
” یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے “۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ» [39-الزمر:67] ” ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی تھی، جانا ہی نہیں “۔ تمام زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ
اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں تمام کائنات ٭٭…
” یہ قیامت کے دن ہوگا جب ہم آسمان کو لپیٹ لیں گے “۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ»