وَمَنْ
اَظْلَمُ
مِمَّنِ
افْتَرٰی
عَلَی
اللّٰهِ
كَذِبًا
اَوْ
قَالَ
اُوْحِیَ
اِلَیَّ
وَلَمْ
یُوْحَ
اِلَیْهِ
شَیْءٌ
وَّمَنْ
قَالَ
سَاُنْزِلُ
مِثْلَ
مَاۤ
اَنْزَلَ
اللّٰهُ ؕ
وَلَوْ
تَرٰۤی
اِذِ
الظّٰلِمُوْنَ
فِیْ
غَمَرٰتِ
الْمَوْتِ
وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ
بَاسِطُوْۤا
اَیْدِیْهِمْ ۚ
اَخْرِجُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ ؕ
اَلْیَوْمَ
تُجْزَوْنَ
عَذَابَ
الْهُوْنِ
بِمَا
كُنْتُمْ
تَقُوْلُوْنَ
عَلَی
اللّٰهِ
غَیْرَ
الْحَقِّ
وَكُنْتُمْ
عَنْ
اٰیٰتِهٖ
تَسْتَكْبِرُوْنَ
۟
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے، حالاں کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو اور کہے کہ جیسا کلام خدا نے اتارا ہے میں بھی اتاروں گا اور کاش تم اس وقت دیکھو جب کہ یہ ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ لاؤ اپنی جانیں نکالو آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا اس سبب سے کہ تم اللہ پر جھوٹی باتیں کہتے تھے اور تم اللہ کی نشانیوں سے تکبر کرتے تھے
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
مغضوب لوگ ٭٭…
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ دراصل رسول نہیں -خواہ مخواہ کہہ دے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ کوئی وحی نہ اتری ہو اور اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم
مغضوب لوگ ٭٭…
اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں خواہ اس جھوٹ کی نوعیت یہ ہو کہ اللہ کی اولاد ہے یا اس کے کئی شریک ہیں یا یوں کہے کہ