سَیَقُوْلُ
الَّذِیْنَ
اَشْرَكُوْا
لَوْ
شَآءَ
اللّٰهُ
مَاۤ
اَشْرَكْنَا
وَلَاۤ
اٰبَآؤُنَا
وَلَا
حَرَّمْنَا
مِنْ
شَیْءٍ ؕ
كَذٰلِكَ
كَذَّبَ
الَّذِیْنَ
مِنْ
قَبْلِهِمْ
حَتّٰی
ذَاقُوْا
بَاْسَنَا ؕ
قُلْ
هَلْ
عِنْدَكُمْ
مِّنْ
عِلْمٍ
فَتُخْرِجُوْهُ
لَنَا ؕ
اِنْ
تَتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
الظَّنَّ
وَاِنْ
اَنْتُمْ
اِلَّا
تَخْرُصُوْنَ
۟
جنھوں نے شرک کیا، وہ کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرلیتے اسی طرح جھٹلایا ان لوگوں نے بھی جو ان سے قبل ہوئے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے ہمارا عذاب چکھا کہو کیا تمھارے پاس کوئی علم ہے جس کو تم ہمارے سامنے پیش کرو تم تو صرف گمان کی پیروی کر رہے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو
پڑھیں q-and-a.tafsir
تفسیر ابنِ کثیر
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭…
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس کے بدلنے پر بھی قادر ہے۔ اس طرح کہ ہمارے دل میں ایمان ڈال دے یا کفر کے کاموں کی ہمیں قدرت ہی نہ دے۔
صفحہ نمبر2793
پھر بھی اگر وہ ہماری اس روش کو نہیں
غلط سوچ سے باز رہو ٭٭…
مشرک لوگ دلیل پیش کرتے تھے کہ ہمارے شرک کا حلال کو حرام کرنے کا حال تو اللہ کو معلوم ہی ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ اگر چاہے تو ا