وَعَلَی
الَّذِیْنَ
هَادُوْا
حَرَّمْنَا
كُلَّ
ذِیْ
ظُفُرٍ ۚ
وَمِنَ
الْبَقَرِ
وَالْغَنَمِ
حَرَّمْنَا
عَلَیْهِمْ
شُحُوْمَهُمَاۤ
اِلَّا
مَا
حَمَلَتْ
ظُهُوْرُهُمَاۤ
اَوِ
الْحَوَایَاۤ
اَوْ
مَا
اخْتَلَطَ
بِعَظْمٍ ؕ
ذٰلِكَ
جَزَیْنٰهُمْ
بِبَغْیِهِمْ ۖؗ
وَاِنَّا
لَصٰدِقُوْنَ
۟
اور جن لوگوں نے یہودیّت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈّی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی1 اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام ٭٭…
ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ ”جو کھلی انگلیوں والا نہ ہو۔“ ایک روایت میں ان سے مروی ہے کہ ”ہر ایک جدا انگلیوں والا اور انہی میں سے مرغ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کا
مزید تفصیل متعلقہ حلال و حرام ٭٭…
ناخن دار جانور چوپایوں اور پرندوں میں سے وہ ہیں، جن کی انگلیاں کھلی ہوئی نہ ہوں جیسے اونٹ، شتر مرغ، بطخ وغیرہ۔ سعید بن