وَاِنْ
تُطِعْ
اَكْثَرَ
مَنْ
فِی
الْاَرْضِ
یُضِلُّوْكَ
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ ؕ
اِنْ
یَّتَّبِعُوْنَ
اِلَّا
الظَّنَّ
وَاِنْ
هُمْ
اِلَّا
یَخْرُصُوْنَ
۟
اور اے محمد ؐ ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریّت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرا ئیاں کرتے ہیں۔1
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِيْنَ» [37-الصافات:71] اور جگہ ہے آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» [12-یوسف:103] ” گو تو حرص کرے لیک
بیکار خیالوں میں گرفتار لوگ ٭٭…
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ” اکثر لوگ دنیا میں گمراہ کن ہوتے ہیں “۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَ