مَا
جَعَلَ
اللّٰهُ
لِرَجُلٍ
مِّنْ
قَلْبَیْنِ
فِیْ
جَوْفِهٖ ۚ
وَمَا
جَعَلَ
اَزْوَاجَكُمُ
الّٰٓـِٔیْ
تُظٰهِرُوْنَ
مِنْهُنَّ
اُمَّهٰتِكُمْ ۚ
وَمَا
جَعَلَ
اَدْعِیَآءَكُمْ
اَبْنَآءَكُمْ ؕ
ذٰلِكُمْ
قَوْلُكُمْ
بِاَفْوَاهِكُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
یَقُوْلُ
الْحَقَّ
وَهُوَ
یَهْدِی
السَّبِیْلَ
۟
اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کر بیٹھتے ہو۔ ور نہ ہی اس نے تمہارے ُ منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ سب تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭…
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کی طرف سے ذہن ہٹاکر اپنے مقصود کی طرف لے گئے۔
بیان فرمایا کہ ” یہ تو ظاہر ہے کہ کسی انسان کے دل دو نہیں ہوتے۔ اسی طرح تم سمجھ لو کہ اپنی جس بی
سچ بدل نہیں سکتا لے پالک بیٹا نہیں بن سکتا ٭٭…
مقصود کو بیان کرنے سے پہلے بطور مقدمے اور ثبوت کے مثلاً ایک وہ بات بیان فرمائی جسے سب محسوس کرتے ہیں اور