سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
23:33
من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا ٢٣
مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌۭ صَدَقُوا۟ مَا عَـٰهَدُوا۟ ٱللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُۥ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا۟ تَبْدِيلًۭا ٢٣
مِنَ
الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
رِجَالٌ
صَدَقُوۡا
مَا
عَاهَدُوا
اللّٰهَ
عَلَيۡهِ​ۚ
فَمِنۡهُمۡ
مَّنۡ
قَضٰى
نَحۡبَهٗ
وَمِنۡهُمۡ
مَّنۡ
يَّنۡتَظِرُ​ ۖ 
وَمَا
بَدَّلُوۡا
تَبۡدِيۡلًا ۙ‏
٢٣
اہل ِایمان میں وہ جواں مرد لوگ بھی ہیں جنہوں نے سچا کر دکھایا وہ عہد جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا پس ان میں سے کچھ تو اپنی نذر پوری کرچکے اور ان میں سے کچھ انتظار کر رہے ہیں } اور انہوں نے ہرگز کوئی تبدیلی نہیں کی
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 33:23 سے 33:24 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
اس دن مومنوں اور کفار میں فرق واضح ہو گیا ٭٭

منافقوں کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ وقت سے پہلے تو جاں نثاری کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے لیکن وقت آنے پر پورے بزدل اور نامرد ثابت ہوئے، سارے دعوے اور وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور بجائے ثابت قدمی کے پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

یہاں مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” انہوں نے اپنے وعدے پورے کر دکھائے “۔ بعض نے جام شہادت نوش فرمایا اور بعض اس کے نظارے میں بے چین ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے ثابت رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ جب ہم نے قرآن لکھنا شروع کیا تو ایک آیت مجھے نہیں ملتی تھی حالانکہ سورۃ الاحزاب میں وہ آیت میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی تھی۔ آخر خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس یہ آیت ملی یہ وہ صحابی رضی اللہ عنہ ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ «عَلَيْهِ أَفْضَل الصَّلَاة وَالتَّسْلِيم» نے دو گواہوں کے برابر کر دیا تھا۔ وہ آیت «مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا» [ 33- الأحزاب: 23 ] ‏، ہے ۔ [صحیح بخاری:2807] ‏

صفحہ نمبر6991

یہ آیت انس بن نضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4783] ‏ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے جس کا انہیں سخت افسوس تھا کہ سب سے پہلی جنگ میں جس میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک تھے میں شامل نہ ہو سکا اب جو جہاد کا موقعہ آئے گا میں اللہ تعالیٰ کو اپنی سچائی دکھا دونگا اور یہ بھی کہ میں کیا کرتا ہوں؟ اس سے زیادہ کہتے ہوئے خوف کھایا۔ اب جنگ احد کا موقعہ آیا تو انہوں نے دیکھا کہ سامنے سے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ واپس آ رہے ہیں انہیں دیکھ کر تعجب سے فرمایا کہ ابوعمرو! (‏رضی اللہ عنہ) کہاں جا رہے ہو؟ واللہ مجھے احد پہاڑ کے اس طرف سے جنت کی خوشبوئیں آ رہی ہیں۔ یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں میں خوب تلوار چلائی۔ چونکہ مسلمان لوٹ گئے تھے یہ تنہا تھے ان کے بے پناہ حملوں نے کفار کے دانت کھٹے کر دئیے تھے اور کفار لڑتے لڑتے ان کی طرف بڑھے اور چاروں طرف سے گھیر لیا اور شہید کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو (‏۸۰)‏ اسی سے اوپر اپر زخم آئے تھے کوئی نیزے کا کوئی تلوار کا کوئی تیر کا۔ شہادت کے بعد کوئی آپ رضی اللہ عنہ کو پہچان نہ سکا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ نے آپ رضی اللہ عنہ کو پہچانا اور وہ بھی ہاتھوں کی انگلیوں کی پوریں دیکھ کر۔ انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہی ایسے تھے جنہوں نے جو کہا تھا کر دکھایا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ [صحیح مسلم:1903] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب مسلمان بھاگے تو آپ نے فرمایا اے اللہ انہوں نے جو کیا میں اس سے اپنی معذوری ظاہر کرتا ہوں۔ اور مشرکوں نے جو کیا میں اس سے بیزار ہوں۔ اس میں یہ بھی ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں آپ کے ساتھ ہوں۔ ساتھ چلے بھی لیکن فرماتے ہیں جو وہ کر رہے تھے وہ میری طاقت سے باہر تھا ۔ [صحیح بخاری:2805] ‏

طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیان ابی ابن حاتم میں ہے کہ جنگ احد سے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس مدینے آئے تو منبر پر چڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسلمانوں سے ہمدردی ظاہر کی جو جو شہید ہو گئے تھے ان کے درجوں کی خبر دی۔ پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ ایک مسلمان نے کھڑے ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں کا اس آیت میں ذکر ہے وہ کون ہیں؟ اس وقت میں سامنے آ رہا تھا اور حضرمی سبز رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اشارہ کرکے فرمایا: اے پوچھنے والے یہ بھی ان ہی میں سے ہیں ۔ [سنن ترمذي:3203، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

ان کے صاحبزادے موسیٰ بن طلحہ رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں گئے جب وہاں سے واپس آنے لگے دروازے سے باہر نکلے ہی تھے جو جناب معاویہ رضی اللہ عنہا نے واپس بلایا اور فرمایا آؤ مجھ سے ایک حدیث سنتے جاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ تمہارے والد طلحہ رضی اللہ عنہ ان میں سے ہے جن کا بیان اس آیت میں ہے کہ انہوں نے اپنا عہد اور نذر پوری کر دی ۔ [سنن ترمذي:3720،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر6992

رب العلمین ان کا بیان فرما کر فرماتا ہے کہ ” بعض اس دن کے منتظر ہیں کہ پھر لڑائی ہو اور وہ اپنی کار گزاری اللہ کو دکھائیں اور جام شہادت نوش فرمائیں “۔ پس بعض نے تو سچائی اور وفاداری ثابت کر دی اور بعض موقعہ کے منتظر ہیں انہوں نے نہ عہد بدلا نہ نذر پوری کرنے کا کبھی انہیں خیال گزرا بلکہ وہ اپنے وعدے پر قائم ہیں وہ منافقوں کی طرح بہانے بنانے والے نہیں۔

یہ خوف اور زلزلہ محض اس واسطے تھا کہ خبیث و طیب کی تمیز ہو جائے اور برے بھلے کا حال ہر ایک پر کھل جائے۔ کیونکہ اللہ تو عالم الغیب ہے اس کے نزدیک تو ظاہر و باطن برابر ہے جو نہیں ہوا اسے بھی وہ تو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اسے جو ہو چکا۔ لیکن اس کی عادت ہے کہ جب تک مخلوق عمل نہ کر لے انہیں صرف اپنے علم کی بنا پر جزا سزا نہیں دیتا۔ جیسے اس کا فرمان ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [47-محمد:31] ‏، ” ہم تمہیں خوب پرکھ کر مجاہدین صابرین کو تم میں سے ممتاز کردینگے “۔

پس وجود سے پہلے کا علم پھر وجود کے بعد کا علم دونوں اللہ کو ہیں اور اس کے بعد جزا سزا۔ جیسے فرمایا آیت «مَا كَان اللّٰهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلٰي مَآ اَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتّٰى يَمِيْزَ الْخَبِيْثَ مِنَ الطَّيِّبِ» [3-آل عمران:179] ‏، ” اللہ تعالیٰ جس حال پر تم ہو اسی پر مومنوں کو چھوڑ دے ایسا نہیں جب تک کہ وہ بھلے برے کی تمیز نہ کر لے نہ اللہ ایسا ہے کہ تمہیں غیب پر مطلع کر دے “۔

پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ” یہ اس لیے کہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے اور عہد شکن منافقوں کو سزادے۔ یا انہیں توفیق توبہ دے کہ یہ اپنی روش بدل دیں اور سچے دل سے اللہ کی طرف جھک جائیں تو اللہ بھی ان پر مہربان ہو جائے اور ان کو معاف فرما دے۔ اس لیے کہ وہ اپنی مخلوق کی خطائیں معاف فرمانے والا اور ان پر مہربانی کرنے والا ہے۔ اس کی رافت و رحمت غضب و غصے سے بڑھی ہوئی ہے “۔

صفحہ نمبر6993
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں