الأحزاب 33:10 اذ جاءوكم من فوقكم ومن اسفل منكم واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون بالله الظنونا ١٠
اِذْ
جَآءُوْكُمْ
مِّنْ
فَوْقِكُمْ
وَمِنْ
اَسْفَلَ
مِنْكُمْ
وَاِذْ
زَاغَتِ
الْاَبْصَارُ
وَبَلَغَتِ
الْقُلُوْبُ
الْحَنَاجِرَ
وَتَظُنُّوْنَ
بِاللّٰهِ
الظُّنُوْنَا
۟
جب وہ (لشکر) آئے تم پر تمہارے اوپر سے بھی اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب (خوف کے مارے) نگاہیں پتھرا گئی تھیں اور دل حلق میں آگئے تھے اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭…
جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہو رہا ہے۔ جبکہ مشرکین نے پوری طاقت سے اور پورے اتحاد سے مسلمانوں کو مٹا دینے کے ارادے سے زبردست لشکر لے کر حملہ کیا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں جنگ خندق سنہ
غزوئہ خندق اور مسلمانوں کی خستہ حالی ٭٭…
جنگ خندق میں جو سنہ ٥ ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر اپنا فضل و احسان کیا تھا اس کا بیان ہ