آیات:
35
نزول وحی کی جگہ:
مکہ
تفسیر ابن عاشور سے ماخوذ
یہ مکی سورت مشرکین کے مقابلے میں قیامت کے یقینی وقوع اور قرآن کے الٰہی کلام ہونے کو ثابت کرتی ہے۔ یہ کائنات کی نشانیوں کے ذریعے توحید کو واضح کرتی ہے، اور طاقتور قومِ عاد کی ہلاکت کو عبرت و تنبیہ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کو ثابت قدم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دور: مفسرین کے اتفاقِ رائے کے مطابق مکی ہے۔
سیاق و سباق: یہ سورہ مکی دور کے دوران اس وقت نازل ہوئی جب ظلم و ستم عروج پر تھا اور نبی کریم (ﷺ) کو تسلی اور حوصلہ دینے کی ضرورت تھی۔ اس کی تصدیق آخری حکم سے ہوتی ہے کہ "تو (اے محمد ﷺ !) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑ صبر کرتے رہے ہیں"۔
ترتیبِ نزول: نزول کی ترتیب میں اسے 65 ویں سورہ شمار کیا گیا ہے، جو سورۃ الجاثیہ کے بعد اور الذاریات سے پہلے نازل ہوئی۔
نام: اس سورہ کا قائم شدہ نام "سورۃ الاحقاف" ہے۔ یہ قرآن کی واحد سورہ ہے جس میں "الاحقاف" [21] کا ذکر ہے، جو اس علاقے کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں حضرت ہودؑ کی قوم، عاد کے طاقتور لوگ رہتے تھے اور تباہ کیے گئے تھے۔
آیات کی تعداد: 34 آیات (اکثریت کے مطابق) یا 35 (کوفہ کے مطابق)۔