الأحقاف 46:9 قل ما كنت بدعا من الرسل وما ادري ما يفعل بي ولا بكم ان اتبع الا ما يوحى الي وما انا الا نذير مبين ٩
قُلْ
مَا
كُنْتُ
بِدْعًا
مِّنَ
الرُّسُلِ
وَمَاۤ
اَدْرِیْ
مَا
یُفْعَلُ
بِیْ
وَلَا
بِكُمْ ؕ
اِنْ
اَتَّبِعُ
اِلَّا
مَا
یُوْحٰۤی
اِلَیَّ
وَمَاۤ
اَنَا
اِلَّا
نَذِیْرٌ
مُّبِیْنٌ
۟
(اے نبی ﷺ ! ان سے یہ بھی) کہیے کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں ہوں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور نہ یہ کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا } میں تو بس اسی کی پیروی کر رہا ہوں جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے اور میں نہیں ہوں مگر ایک کھلا خبردار کردینے والا۔
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو ہے، تکذیب و افترا، ضلالت و کفر گویا ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ جادو کہہ کر ہی بس نہیں کرتے بلکہ یوں بھی کہتے ہیں ک
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اظہار بےبسی ٭٭…
مشرکوں کی سرکشی اور ان کا کفر بیان ہو رہا ہے کہ جب انہیں اللہ کی ظاہر و باطن واضح اور صاف آیتیں سنائی جات