سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
66:2
قد فرض الله لكم تحلة ايمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم ٢
قَدْ فَرَضَ ٱللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَـٰنِكُمْ ۚ وَٱللَّهُ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ ٢
قَدۡ
فَرَضَ
اللّٰهُ
لَـكُمۡ
تَحِلَّةَ
اَيۡمَانِكُمۡ​ؕ
وَاللّٰهُ
مَوۡلٰٮكُمۡ​ۚ
وَهُوَ
الۡعَلِيۡمُ
الۡحَكِيۡمُ‏
٢
اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مددگار ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 66:1 سے 66:2 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہ دراصل ایک عتاب ہے کیونکہ کوئی مومن اپنے اوپر اس چیز کو حرام نہیں کرسکتا جو اللہ نے حلال کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ” شہد “ یا ” ماریہ “ کے پاس جانے کو ازروئے قانون اور شریعت تو حرام نہ کیا تھا۔ صرف اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کام کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس پر یہ جھڑکی آئی کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ، کسی کو خوش کرنے کے لئے ان سے اپنے آپ کو محروم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا۔

واللہ غفور رحیم (66 : 1) ” اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ فعل قابل مواخذہ ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت طلب کی جائے اور اللہ کی رحمت شامل حال ہوجائے۔ یہ نہایت ہی لطیف اشارہ ہے۔

قرآن جس حلف کی طرف اشارہ کررہا ہے ، جو رسول اللہ نے کرلیا تھا کہ دوبارہ ایسا نہیں کروں گا تو اللہ نے فرمایا کہ اس قسم سے نکل آﺅ، یعنی کفارہ ادا کرکے اور قسم اگر کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو تو اس کا توڑنا اور کفارہ دینا فرض ہے۔

واللہ مولکم (66 : 2) ” اللہ تمہارا مولیٰ ہے “۔ اللہ تمہاری کمزوریوں پر تمہاری معاونت کرتا ہے اور اس معاملے میں بھی تمہاری معاونت کرتا ہے جو تمہارے لئے گراں گزرے۔ اور یہ قسموں کو حلال کرنا اور ان سے کفارہ ادا کرکے نل آنے کا طریقہ اسی لئے تو اللہ نے فرض کیا ہے۔

وھوالعلیم الحکیم (66 : 2) ” وہی علیم و حکیم ہے “۔ وہ تمہارے لئے جو قوانین بناتا ہے ، وہ علم و حکمت سے بتاتا ہے۔ اور تمہارے لئے جو احکام دیتا ہے وہ ایسے ہوتے ہیں کہ تم ان پر عمل کرسکتے ہو اور وہ تمہارے لئے مفید ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہی چیزوں کو حرام کرو جو اللہ نے حرام کیں۔ اور جو اللہ نے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو۔ یہ مناسب نتیجہ ہے۔

اس کے بعد روئے سخن اس بات کی طرف ہے جو آپ نے فرمائی تھی لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ کیونکہ نفس بات اس قدر اہم نہ تھی۔ اور نہ کوئی ایسی بات تھی جس کا قیامت تک تاریخی ریکارڈ پہ لانا ضروری تھا۔ بس جس چیز کو باقی رکھنا مطلوب تھا ، وہ اس بات کے آثار ونتائج تھے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔