سائن ان کریں۔
ہمارے مشن میں اپنا حصہ ڈالیں۔
عطیہ کریں۔
ہمارے مشن میں اپنا حصہ ڈالیں۔
عطیہ کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
9:62
يا ايها الذين امنوا اذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع ذالكم خير لكم ان كنتم تعلمون ٩
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا نُودِىَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوْمِ ٱلْجُمُعَةِ فَٱسْعَوْا۟ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ وَذَرُوا۟ ٱلْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌۭ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٩
يٰۤاَيُّهَا
الَّذِيۡنَ
اٰمَنُوۡۤا
اِذَا
نُوۡدِىَ
لِلصَّلٰوةِ
مِنۡ
يَّوۡمِ
الۡجُمُعَةِ
فَاسۡعَوۡا
اِلٰى
ذِكۡرِ
اللّٰهِ
وَذَرُوا
الۡبَيۡعَ​ ؕ
ذٰ لِكُمۡ
خَيۡرٌ
لَّـكُمۡ
اِنۡ
كُنۡتُمۡ
تَعۡلَمُوۡنَ‏
٩
اے ایمان والو ! جب تمہیں پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف اور کاروبار چھوڑ دو۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

سورت کے تیسرے اور آخری حصے میں نماز جمعہ کا ذکر ہے۔ نماز جمعہ دراصل ”حزب اللہ“ کا ہفتہ وار تعلیمی و تربیتی اجتماع ہے۔ ایسے اجتماعات کا انعقاد ہر انقلابی تحریک کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی زمانے میں کمیونسٹوں کے ہاں بھی اپنے کارکنوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ہفتہ وار ”سٹڈی سرکلز“ کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتا تھا۔ دراصل حزب اللہ کا نصب العین بہت عظیم اور راستہ بہت کٹھن ہے۔ اس راستے پر سفر جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی صبر اور استقامت درکار ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انقلابی کارکنوں کے ذہنوں میں ان کے بنیادی نظریے اور نصب العین کا شعور ہر لحظہ مستحضر رہے۔ چناچہ جمعہ کے اجتماع کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہر سات دن کے بعد باقاعدگی کے ساتھ دور و نزدیک سے سب اہل ایمان اکٹھے ہوں اور اللہ کا کوئی بندہ نائب رسول ﷺ کی حیثیت سے ان کے لیے ”یَتْـلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ“ کا فریضہ سرانجام دے ‘ تاکہ تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفس کا عمل حضور ﷺ کے بعد بھی قیامت تک جاری وساری رہے۔ اجتماعِ جمعہ کے اس پہلو کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ اس کے لیے ظہر کی نماز مختصر کردی گئی۔ یعنی ظہر کے چار فرائض کے بجائے صرف دو رکعتیں رہ گئیں اور باقی دو رکعتوں کی جگہ خطبہ یعنی ”تعلیم و تعلّم“ کو لازم کردیا گیا۔ اس لحاظ سے اجتماعِ جمعہ کو تعلیم بالغاں کا ہفتہ وار پروگرام بھی کہا جاسکتا ہے۔ اس پروگرام کی اہمیت پچھلے زمانے میں اور بھی زیادہ تھی ‘ جب نہ سکول کالج تھے ‘ نہ یونیورسٹیاں تھیں ‘ نہ کتابیں دستیاب تھیں ‘ نہ اخبار چھپتے تھے اور نہ ہی آڈیو ویڈیو کی سہولیات میسر تھیں۔ برعظیم پاک و ہند میں اجتماعِ جمعہ کی تعلیمی اہمیت کا شعور ماضی قریب کے زمانہ تک بھی موجود تھا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جمعہ کے دن شہر کی جامع مسجد میں دور دراز دیہات سے لوگ صبح سات آٹھ بجے ہی پہنچنا شروع ہوجاتے تھے۔ اس دور میں جمعہ صرف شہروں میں ادا کیا جاتا تھا ‘ دیہات میں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔ جمعہ کے لیے فقہاء نے ”مصر ِجامع“ کی شرط عائد کی ہے۔ یعنی جمعہ ہر بستی میں نہیں بلکہ صرف اس شہر میں ہوسکتا ہے جس میں بازار ہوں ‘ قیامِ امن کا انتظام ہو ‘ جامع مسجد ہو۔ لیکن جب ہر چھوٹی بڑی بستی میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا گیا تو مجموعی طور پر اجتماعِ جمعہ کی اہمیت کم ہونا شروع ہوگئی۔ ظاہر ہے جب ہر بستی میں جمعہ ہو رہا ہو تو لوگ اس کے لیے سفر کر کے شہر کی جامع مسجد میں بھلا کیوں جائیں گے ؟ جمعہ کے اجتماعات تو آج بھی منعقد ہوتے ہیں ‘ لوگ جوق در جوق ان میں شرکت بھی کرتے ہیں ‘ خطبے بھی پڑھے اور سنے جاتے ہیں ‘ لیکن یہ سب کچھ ایک ”رسم عبادت“ کے طور پر ہو رہا ہے ‘ جبکہ اس اجتماع کا بنیادی فلسفہ اور اصل مقصد مجموعی طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہوچکا ہے۔ بقول اقبال : ؎رہ گئی رسم ِاذاں ‘ روحِ بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا ‘ تلقین غزالی نہ رہی ! بہرحال آج کل اجتماعِ جمعہ کے حوالے سے جو ظاہری اہتمام دیکھنے میں آتا ہے اس کی حیثیت اس عمارت کے کھنڈرات کی سی ہے جو عرصہ دراز سے زمین بوس ہوچکی ہے ‘ لیکن ان کھنڈرات کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ عمارت بہت عظیم الشان تھی۔آیت 9{ یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ } ”اے ایمان والو ! جب تمہیں پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو دوڑو اللہ کے ذکر کی طرف اور کاروبار چھوڑ دو۔“ نماز تو بہرحال اللہ کا ذکر ہے ہی ‘ لیکن یہاں اللہ کے ذکر سے خصوصی طور پر خطبہ جمعہ مراد ہے۔۔۔۔ ”اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو“ کا مطلب یہ نہیں کہ بھاگتے ہوئے آئو ‘ بلکہ اس سے مراد مستعدی سے چل کھڑے ہونا ہے ‘ یعنی جلدی سے جلدی وہاں پہنچنے کی کوشش کرو۔ نماز کے لیے بھاگ کر آنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ { ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔“

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں