110.تم وہ بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے) تم حکم کرتے ہو نیکی کا اور تم روکتے ہو بدی سے اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔
ان میں سے کچھ تو ایمان والے ہیں لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے 111.(اے مسلمانو !) یہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے سوائے تھوڑی سی کو فت کے اور اگر یہ تم سے جنگ کریں گے تو پیٹھ دکھا دیں گے پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی 112.ان کے اوپر ذلت تھوپ دی گئی ہے جہاں کہیں بھی پائے جائیں سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہوجائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہوگئے اور ان کے اوپر کم ہمتی مسلط کردی گئی یہ اس لیے ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور حدود سے تجاوز کرتے رہے 113.یہ سب کے سب برابر نہیں ہیں اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو (سیدھے راستے پر) قائم ہیں رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں 114.وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یوم آخر پر اور نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور یقیناً یہ لوگ صالحین میں سے ہیں 115.جو خیر بھی یہ کریں گے تو اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور اللہ ایسے متقی لوگوں سے خوب واقف ہے 116.(اس کے برعکس) جو لوگ کفر پر اڑ گئے ان کے کام نہیں آسکیں گے نہ ان کے اموال نہ ان کی اولاد اللہ سے بچانے میں کچھ بھی یہی لوگ جہنمی ہیں اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے 117.دنیا کی اس زندگی میں یہ لوگ جو بھی خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک زور دار آندھی جس میں پالا ہو وہ کسی ایسی قوم کی کھیتی کو آپڑے جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو پھر وہ اس (کھیتی) کو تباہ و برباد اور تہس نہس کر کے رکھ دے اور ان پر اللہ نے کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم ڈھا رہے ہیں