Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
2:96
ولتجدنهم احرص الناس على حياة ومن الذين اشركوا يود احدهم لو يعمر الف سنة وما هو بمزحزحه من العذاب ان يعمر والله بصير بما يعملون ٩٦
وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ ٱلنَّاسِ عَلَىٰ حَيَوٰةٍۢ وَمِنَ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍۢ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِۦ مِنَ ٱلْعَذَابِ أَن يُعَمَّرَ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ ٩٦
وَلَتَجِدَنَّهُمۡ
أَحۡرَصَ
ٱلنَّاسِ
عَلَىٰ
حَيَوٰةٖ
وَمِنَ
ٱلَّذِينَ
أَشۡرَكُواْۚ
يَوَدُّ
أَحَدُهُمۡ
لَوۡ
يُعَمَّرُ
أَلۡفَ
سَنَةٖ
وَمَا
هُوَ
بِمُزَحۡزِحِهِۦ
مِنَ
ٱلۡعَذَابِ
أَن
يُعَمَّرَۗ
وَٱللَّهُ
بَصِيرُۢ
بِمَا
يَعۡمَلُونَ
٩٦
And olsun ki, onların hayata diğer insanlardan ve hatta Allah'a eş koşanlardan da daha düşkün olduklarını görürsün. Her biri ömrünün bin yıl olmasını ister. Oysa uzun ömürlü olması onu azabdan uzaklaştırmaz. Allah onların yaptıklarını görür.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis

یہ موت کی تمنا اس لئے نہ کریں گے کہ انہوں نے اس دنیا میں جو کمائی کی ہے ، اس پر انہیں عالم آخرت میں کسی اجر کی توقع نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ اس کے ذریعے وہ عذاب الٰہی سے بچ سکیں گے ۔ بلکہ عذاب تو وہاں ان کا منتظر ہے ۔ اللہ ظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کی بداعمالیاں بھی اس کی نظر میں ہیں۔

صرف یہی نہیں ، بلکہ یہودیوں کے اندر ایک دوسری خصلت بھی پائی جاتی ہے ۔ قرآن کریم اس خصلت کی ایسی تصویر کھینچتا ہے جس سے ان کی ذلت ، حقارت اور رذیل پنا ٹپکتا ہے ۔ قرآن کریم کہتا ہے وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ ” تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص پاؤگے ۔ “ کیسا جینا ؟ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہے ، زندگی ہو ، چاہے جیسی ہو۔ ان کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ وہ زندگی باعزت بھی ہو۔ بس وہ تو صرف زندگی چاہتے ہیں ۔ چاہے وہ ذلت اور حقارت کی زندگی ہو ۔ زندگی اور عافیت ........ بس یہی یہودیوں کی حقیقت رہی ہے ۔ یہی یہودیوں کا ماضی ہے ، یہی حال ہے اور یہی مستقبل کا مطمح نظر ہے ۔ یہودی صرف اسی وقت سر اٹھاتے ہیں جب خطرہ دور ہوجاتا ہے ۔ جب تک خطرہ سروں پر قائم ہو وہ سر نہیں اٹھاتے ، ان کی گردنیں جھکی رہتی ہیں کیونکہ وہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انہیں زندہ رہنے سے بےحد محبت ہے ........ وہ کیسی زندگی چاہتے ہیں ؟

وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ

” جب حیات کے معاملے میں یہ مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیئے ۔ حالانکہ لمبی لمبی عمر بہرحال انہیں عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی ۔ جیسے کچھ اعمال یہ کررہے ہیں اللہ تو انہیں دیکھ رہا ہے ۔ “

ان میں سے ہر صاحب ایک ہزار سال عمر کی تمنا رکھتے ہیں ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کے بارے میں کوئی پختہ یقین نہیں ہے ۔ وہ نہیں سمجھتے کہ اس زندگی کے علاوہ بھی کوئی زندگی ہے ؟ اور جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے تو اس پر عرصہ حیات تنگ ہوجاتا ہے ۔ اسے اپنی دنیاوی زندگی بہت ہی تنگ نظر آتی ہے ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے صرف انہی معدودے چند گھنٹوں اور سانسوں کی مہلت ملی ہوئی ہے۔

” جب اس نقطہ نظر پر غور کیا جائے تو اخروی زندگی پر ایمان ، ایک عظیم نعمت ہے جو انسان کو بخشی گئی ہے ۔ ایسی نعمت جس کا فیضان ، ایمان کے ذریعے ، انسان کے دل پر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ یہ نعمت اس فانی انسان کو اس لئے عطا کرتا ہے کہ اسے اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں آرزوؤں کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے ، لہٰذا اسے زندگی کیتنگ دامانی کا احساس نہیں رہتا جو لوگ اپنے آپ کو اس نعمت سے محروم کردیتے ہیں ، اور اپنے لئے حیات دوام کا دروازہ بند کردیتے ہیں ، ان کے ذہنوں میں ” زندگی “ کا ایک ناقص اور مسخ شدہ تصور ہوتا ہے ۔ غرض یوم آخرت پر ایمان لانا تو اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور آخرت میں مکافات عمل پر ایمان لانا ہے ، دوسرے یہ کہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بندہ مومن کا وجود زندگی کی فیوض سے مالامال ہے ، اور اسے ایک ایسی دائمی زندگی بخشی گئی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ کسی سرحد پر جاکر رکتی ہے ، بلکہ یہ زندگی تمام سرحدوں سے گزر کر بقائے دوام کے حدود تک جاپہنچتی ہے ۔ اور جس کی انتہاء کا علم صرف اللہ کی ذات کو ہے ، یہ زندگی مستقلاً بلندیوں تک اٹھتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وصال باری کی منزل تک جاپہنچتی ہے۔ “

اب اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو کی طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔ یہودیوں کو کھلا چیلنج دیا جاتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ؟

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Kur'an'la bağlantınızı koruyun ❤️

Yeniden başlamak, düşünmek ve Kur'an'la bağlantıda kalmak için kısa ve anlamlı hatırlatmalar.

Kuran'ı Oku, Dinle, Araştır ve Üzerinde Düşün

Quran.com, dünya çapında milyonlarca kişinin Kur'an'ı birden fazla dilde okumak, aramak, dinlemek ve üzerinde düşünmek için kullandığı güvenilir bir platformdur. Çeviriler, tefsirler, kıraatler, kelime kelime çeviriler ve derinlemesine inceleme araçları sunarak Kur'an'ı herkes için erişilebilir hale getirir.

Bir Sadaka-i Cariye olarak Quran.com, insanların Kur'an ile derin bir bağ kurmasına yardımcı olmaya kendini adamıştır. 501(c)(3) kar amacı gütmeyen bir kuruluş olan Kur'an Vakfı tarafından desteklenen Quran.com, Elhamdülillah herkes için ücretsiz ve değerli bir kaynak olarak büyümeye devam ediyor.

Keşfedin
Anasayfa
Kuran Radyo
Okuyucular
Hakkımızda
Geliştiriciler
Ürün Güncellemeleri
Geri Bildirim
Yardım
Bağış Yapın
Projelerimiz
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Quran.Foundation tarafından sahip olunan, yönetilen veya desteklenen kar amacı gütmeyen projeler
Popüler Bağlantılar

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Site HaritasıGizlilikŞartlar ve koşullar
© 2026 Quran.com. Her hakkı saklıdır