15:26 ile 15:27 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون ٢٦ والجان خلقناه من قبل من نار السموم ٢٧
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَـٰنَ مِن صَلْصَـٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ ٢٦ وَٱلْجَآنَّ خَلَقْنَـٰهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ ٢٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

انسان کاوجود دو چیزوں سے مرکب ہے۔ ایک جسم اور دوسرے روح۔ جسم تمام تر ارضی مادوں سے بناہے۔ انسانی جسم کا تجزیہ بتاتا ہے کہ وہ انھیں اجزاء کی ترکیب سے بنا ہے جس کو عرف عام میں پانی اور مٹی کہتے ہیں۔ گویا جسم کے اعتبار سے انسان سراسر ایک بے حیات اور بے شعور وجود کا نام ہے۔ مگر جب خدا اس کے اندر اپنے پاس سے روح ڈال دے تو اچانک یہی جسم ایسی صلاحیتوں کا حامل بن جاتاہے جو معلوم کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔یہاں دوسری مخلوق وہ ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ جن انسان کے حریف ہیں۔ جن آگ کے شعلوں سے بنائے گئے ہیں۔ گویا کہ وہ عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے جلانے والی مخلوق ہیں۔ جس طرح مٹی والی زمین اپنے آپ کو آگ والے سورج سے دور رکھتی ہے تاکہ وہ جل نہ جائے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جنوں سے بچائے۔ ورنہ وہ اس کو اخلاقی اور دینی اعتبار سے جلا ڈالیں گے۔