Identifikohu
🚀 Bashkohuni me Sfidën tonë të Ramazanit!
Mëso më shumë
🚀 Bashkohuni me Sfidën tonë të Ramazanit!
Mëso më shumë
Identifikohu
Identifikohu
Zgjidh Gjuhën
2:72
واذ قتلتم نفسا فاداراتم فيها والله مخرج ما كنتم تكتمون ٧٢
وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًۭا فَٱدَّٰرَْٰٔتُمْ فِيهَا ۖ وَٱللَّهُ مُخْرِجٌۭ مَّا كُنتُمْ تَكْتُمُونَ ٧٢
وَإِذۡ
قَتَلۡتُمۡ
نَفۡسٗا
فَٱدَّٰرَٰءۡتُمۡ
فِيهَاۖ
وَٱللَّهُ
مُخۡرِجٞ
مَّا
كُنتُمۡ
تَكۡتُمُونَ
٧٢
Tefsiret
Shtresat
Mësimet
Reflektime
Përgjigjet
Kiraat
Hadith
Po lexoni një tefsir për grupin e vargjeve 2:72 deri në 2:73
بلاوجہ تجسس موجب عتاب ہے ٭٭

صحیح بخاری شریف میں «فَادَّارَأْتُمْ» کے معنی تم نے اختلاف کیا کے ہیں۔ [صحیح بخاری:کتاب احادیث الانبیاء] ‏ مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ مسیب بن رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص سات گھروں میں چھپ کر بھی کوئی نیک عمل کرے گا اللہ اس کی نیکی کو ظاہر کر دے گا اسی طرح اگر کوئی سات گھروں میں گھس کر بھی کوئی برائی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی ظاہر کر دے گا۔

صفحہ نمبر335

پھر یہ آیت تلاوت کی «وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 72 ] ‏ یہاں وہی واقعہ چچا بھتیجے کا بیان ہو رہا ہے جس کے باعث انہیں ذبیحہ گاؤ کا حکم ہوا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر لگاؤ وہ ٹکڑا کون سا تھا؟ اس کا بیان تو قرآن میں نہیں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ ہمیں اس کے معلوم ہونے سے کوئی فائدہ ہے اور معلوم نہ ہونے سے کوئی نقصان ہے سلامت روی اسی میں ہے کہ جس چیز کا بیان نہیں ہم بھی اس کی تلاش و تفتیش میں نہ پڑیں بعض نے کہا ہے کہ وہ غضروف کی ہڈی نرم تھی کوئی کہتا ہے ہڈی نہیں بلکہ ران کا گوشت تھا کوئی کہتا ہے دونوں شانوں کے درمیان کا گوشت تھا کوئی کہتا ہے زبان کا گوشت کوئی کہتا ہے دم کا گوشت وغیرہ لیکن ہماری بہتری اسی میں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے ہم بھی مبہم ہی رکھیں۔ اس ٹکڑے کے لگتے ہی وہ مردہ جی اٹھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے جھگڑے کا فیصلہ بھی اسی سے کیا اور قیامت کے دن جی اٹھنے کی دلیل بھی اسی کو بنایا۔ اسی سورت میں پانچ جگہ مرنے کے بعد جینے کا بیان ہوا ہے ایک تو

«ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 56 ] ‏ میں اور دوسرا اس قصے میں، تیسرے ان کے قصے میں جو ہزاروں کی تعداد میں نکلے تھے اور ایک اجاڑ بستی پر ان کا گزر ہوا تھا چوتھے ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کے مار ڈالنے کے بعد زندہ ہو جانے میں پانچویں زمین کی مردنی کے بعد روئیدگی کو موت و زیست سے تشبیہ دینے میں۔

صفحہ نمبر336

ابو داؤد طیالسی کی ایک حدیث میں ہے ابوزرین عقیلی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو اللہ تعالیٰ کس طرح جلائے گا فرمایا کبھی تم بنجر زمین پر گزرے ہو؟ کہاں ہاں فرمایا پھر کبھی اس کو سرسبز و شاداب بھی دیکھا ہے؟ کہا ہاں فرمایا اسی طرح موت کے بعد زیست ہے۔ [مسند طیالسی:1089:حسن] ‏ قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْ‌ضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَ‌جْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْ‌نَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِ‌هِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُ‌ونَ» [36-يس:33] ‏ یعنی ” ان منکرین کے لیے مردہ زمین میں بھی ایک نشانی ہے جسے ہم زندہ کرتے ہیں اور اس میں سے دانے نکالتے ہیں جسے یہ کھاتے ہیں اور جس میں ہم کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کرتے ہیں اور چاروں طرف نہروں کی ریل پیل کر دیتے ہیں تاکہ وہ ان پھلوں کو مزے مزے سے کھائیں حالانکہ یہ ان کے ہاتھوں کا بنایا ہوا یا پیدا کیا ہوا نہیں کیا پھر بھی یہ شکر گزاری نہ کریں گے؟ “

اس مسئلہ پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کے مذہب کو اس سے تقویت پہنچائی گئی ہے اس لیے مقتول کے جی اٹھنے کے بعد اس نے دریافت کرنے پر جسے قاتل بتایا اسے قتل کیا گیا اور مقتول کا قول باور کیا گیا ظاہر ہے کہ دم آخر ایسی حالت میں انسان عموماً سچ ہی بولتا ہے اور اس وقت اس پر تہمت نہیں لگائی جاتی۔

صفحہ نمبر337

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر پتھر پر رکھ کر دوسرے پتھر سے کچل ڈالا اور اس کے کڑے اتار لے گیا جب اس کا پتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لڑکی سے پوچھو کہ اسے کس نے مارا ہے۔ لوگوں نے پوچھنا شروع کیا کہ کیا تھے فلاں نے مارا فلاں نے مارا؟ وہ اپنے سر کے اشارے سے انکار کرتی جاتی تھی یہاں تک کہ جب اسی یہودی کا نام آیا تو اس نے سر کے اشارے سے کہا ہاں، چنانچہ اس یہودی کو گرفتار کیا گیا اور باصرار پوچھنے پر اس نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی اس طرح دو پتھروں کے درمیان کچل دیا جائے۔ [صحیح بخاری:6879] ‏

امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک جب یہ برانگیختگی کے باعث ہو تو مقتول کے وارثوں کو قسم کھلائی جائے گی بطور قسامہ کے لیکن جمہور اس کے مخالف اور مقتول کے قول کو اس بارے میں ثبوت نہیں جانتے۔

صفحہ نمبر338
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lexoni, dëgjoni, kërkoni dhe reflektoni mbi Kuranin

Quran.com është një platformë e besueshme e përdorur nga miliona njerëz në mbarë botën për të lexuar, kërkuar, dëgjuar dhe reflektuar mbi Kuranin në gjuhë të shumta. Ajo ofron përkthime, tefsir, recitime, përkthim fjalë për fjalë dhe mjete për studim më të thellë, duke e bërë Kuranin të arritshëm për të gjithë.

Si një Sadaka Xhariyah, Quran.com është i përkushtuar për të ndihmuar njerëzit të lidhen thellë me Kuranin. I mbështetur nga Quran.Foundation , një organizatë jofitimprurëse 501(c)(3), Quran.com vazhdon të rritet si një burim falas dhe i vlefshëm për të gjithë, Elhamdulillah.

Navigoni
Shtëpi
Kuran Radio
Recituesit
Rreth Nesh
Zhvilluesit
Përditësimet e produktit
Feedback
Ndihmë
Projektet tona
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projektet jofitimprurëse të zotëruara, të menaxhuara ose të sponsorizuara nga Quran.Foundation
Kërkimet e preferuara

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Harta e faqesPrivatësiaTermat dhe Kushtet
© 2026 Quran.com. Të gjitha të drejtat e rezervuara