Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma
31:7
واذا تتلى عليه اياتنا ولى مستكبرا كان لم يسمعها كان في اذنيه وقرا فبشره بعذاب اليم ٧
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَـٰتُنَا وَلَّىٰ مُسْتَكْبِرًۭا كَأَن لَّمْ يَسْمَعْهَا كَأَنَّ فِىٓ أُذُنَيْهِ وَقْرًۭا ۖ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٧
وَإِذَا
تُتۡلَىٰ
عَلَيۡهِ
ءَايَٰتُنَا
وَلَّىٰ
مُسۡتَكۡبِرٗا
كَأَن
لَّمۡ
يَسۡمَعۡهَا
كَأَنَّ
فِيٓ
أُذُنَيۡهِ
وَقۡرٗاۖ
فَبَشِّرۡهُ
بِعَذَابٍ
أَلِيمٍ
٧
E quando lhe são recitados os Nossos versículos, volta-se, ensoberbecido, como se não os tivesse ouvido, como sesofresse de surdez; anuncia-lhe, pois, um doloroso castigo.
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
Você está lendo um tafsir para o grupo de versos 31:6 a 31:7

ومن الناس من یشتری ۔۔۔۔۔ فبشرہ بعذاب الیم (6 – 7)

لہو حدیث سے مراد تفریحی اور دلچسپ کلام ہے جس کسی محض وقت گزارنا مطلوب ہو۔ اس کلام سے کوئی اچھا اور مفید نتیجہ نہ نکلتا ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی تعمیری بات ہو ، جو انسان کے منصب خلافت سے متعلق ہو۔ جو انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور معاشی اور دینی اور اخروی کسی غرض سے وابستہ نہ ہو۔ اسلام انسان کے لیے اس دنیا میں کچھ فرائض متعین کرتا ہے۔ ان فرائض کے حدود ، وسائل اور طریقہ کار بھی متعین کرتا ہے۔ یہ آیت عام ہے۔ یہ انسانوں کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جو ہر زمان و مکان میں بالعموم پایا جاتا ہے۔ بعض روایات یہ بتاتی ہیں کہ اسلام کی پہلی جماعت کے دور میں ایک متعین واقعہ بھی ہوا تھا ، اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مکہ کا ایک ادیب نضر ابن الحارث ایران سے ایسی کتابیں خرید کر لاتا تھا جن میں ایرانیوں اور ان کے بڑے لوگوں کے افسانے اور تاریخی واقعات ہوتے تھے اور ان کی جنگوں کے دلچسپ واقعات ہوتے تھے۔ یہ شخص مکہ کی گلیوں میں بیٹھ کر ان لوگوں کو روکتا جو قرآن سننے کے لیے جاتے تھے اور ان کو یہ افسانے سناتا۔ یہ شخص قصص القرآن کے مقابلے میں قصص ایران سناتا تھا۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ یہ آیت اس واقعہ میں وارد ہے تو بھی یہ آیت عام ہے۔ یہ لوگوں کی اس قسم کے خدوخال واضح طور پر بتاتی ہے۔ اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں۔ عہد رسول اللہ ﷺ میں بھی موجود تھے جس دور میں مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔

ومن الناس من یشتری لھو الحدیث (31: 6) ” انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے “۔ یعنی اس کام میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرتا ہے اور اپنی زندگی اس میں کھپاتا ہے۔ اس قدر قیمتی چیزیں وہ اس قدر بےوقعت اور بےقیمت چیزوں میں خرچ کرتا ہے۔ اپنی محدود اور قیمتی عمر اس میں کھپاتا ہے۔ یہ عمر جو نہ واپس آتی ہے اور نہ واپس لائی جاسکتی ہے۔ وہ یہ کام کیوں کرتا ہے۔

لیضل عن ۔۔۔۔ ھزوا (31: 6) ” تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے “۔ ایسا شخص جاہل ہے اور اسکی نظروں سے حقیقت اوجھل ہے۔ وہ کوئی بات علم و یقین کی بنیاد پر نہیں کرتا۔ نہ وہ حکمت کی بنیاد پر کوئی کام کرتا ہے۔ اسکی نیت بھی خراب ہے اور اس کی غرض بھی فاسد ہے۔ وہ لوگوں کو بدراہ کرنا چاہتا ہے۔ خود اپنے آپ کو بھی گمراہ کرتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اپنی زندگی کو اس میں فضول ضائع کرتا ہے پھر وہ اس قدر گستاخ ہے کہ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتا ہے اور اس اسلامی نظام کے ساتھ مذاق کرتا ہے جو اللہ نے وضع کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کی زندگی کا دستور قانون ہو۔ چناچہ قرآن مجید ایسے لوگوں کی تصویر کشی سے بھی قبل ان کو اہانت آمیز عذاب کی دھمکی دیتا ہے۔

اولئک لھم عذاب مھین (31: 6) ” ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ان کیلئے توہین آمیز عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے یہاں دعوت اسلامی کی توہین کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی کے ساتھ مزاح کرتے تھے۔ اب اس دھمکی کے بعد اس گروہ کے خدوخال قلم بند کیے جاتے ہیں۔

واذا تتلی علیہ ۔۔۔۔۔ یسمعھا (31: 7) ” اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گویا اس نے انہیں سنا ہی نہیں “۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر اس متکبر شخص کی ہیئت کذائی کو اچھی طرح قلم بند کردیا گیا ہے۔ وہ نہایت غرور سے منہ موڑ کر گزر جاتا ہے ، سنی ان سنی کردیتا ہے۔ چناچہ اگلا رنگ اس تصویر میں نہایت حقارت آمیزی سے بھرا جاتا ہے۔

کان فی اذنیہ وقرا (31: 7) ” گویا اس کے کان بہرے ہیں “۔ گویا اس کے کانوں کا یہ بھاری پن اللہ کی آیات کو اس کے کانوں تک پہنچنے ہی نہیں دیتا۔ ورنہ ان آیات کو کوئی انسان بھی اگر سنے تو وہ ان کے ساتھ یہ مذموم برتاؤ نہیں کرسکتا۔ یہ رنگ پھر مزید اہانت آمیز کردیا جایا ہے۔

فبشرہ بعذاب الیم (31: 7) ” مژدہ سنا دو اسے دردناک عذاب کا “۔ یہ موقع کسی بشارت کا موقع نہیں ہے لیکن یہاں ان کی توہین مطلوب ہے اور ایسے متکبرین مسخروں کے لئے یہی انداز مناسب ہے۔

اعراض کرنے والوں ، تکبر کرنے والوں اور کفر کرنے والوں کی اس اہانت آمیز سزا کی مناسب سے یہاں ضروری ہے کہ اچھے عمل کرنے والے اہل ایمان کے انعام اور جزا کا بھی ذکر دیا جائے۔ اس سورة کے آغاز میں ان کا ذکر ہوچکا ہے اور ان کی کامیابی کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں اجمالی تھا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Mantenha-se conectado ao Alcorão ❤️

Breves lembretes significativos para recomeçar, refletir e manter a conexão com o Alcorão.

Leia, ouça, pesquise e reflita sobre o Quran

Quran.com é uma plataforma confiável usada por milhões de pessoas em todo o mundo para ler, pesquisar, ouvir e refletir sobre o Alcorão em vários idiomas. Ela oferece traduções, tafsir, recitações, tradução palavra por palavra e ferramentas para um estudo mais aprofundado, tornando o Alcorão acessível a todos.

Como uma Sadaqah Jariyah, o Quran.com se dedica a ajudar as pessoas a se conectarem profundamente com o Alcorão. Apoiado pela Quran.Foundation , uma organização sem fins lucrativos 501(c)(3), o Quran.com continua a crescer como um recurso gratuito e valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Casa
Rádio Quran
Recitadores
Sobre nós
Desenvolvedores
Atualizações de produtos
Comentários
Ajuda
Doar
Nossos Projetos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projetos sem fins lucrativos de propriedade, administrados ou patrocinados pela Quran.Foundation
Links populares

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Mapa do sitePrivacidadeTermos e Condições
© 2026 Quran.com. Todos os direitos reservados
Contribuir