Aanmelden
Aanmelden
Aanmelden
Taal selecteren
2:73
فقلنا اضربوه ببعضها كذالك يحيي الله الموتى ويريكم اياته لعلكم تعقلون ٧٣
فَقُلْنَا ٱضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا ۚ كَذَٰلِكَ يُحْىِ ٱللَّهُ ٱلْمَوْتَىٰ وَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ٧٣
فَقُلۡنَا
ٱضۡرِبُوهُ
بِبَعۡضِهَاۚ
كَذَٰلِكَ
يُحۡيِ
ٱللَّهُ
ٱلۡمَوۡتَىٰ
وَيُرِيكُمۡ
ءَايَٰتِهِۦ
لَعَلَّكُمۡ
تَعۡقِلُونَ
٧٣
Toen zeiden Wij: "Slaat hem (de dode) met een deel van haar (de koe)." Zo doet Allah de doden herleven en toont Hij jullie Zijn Tekenen, hopelijk zullen jullie begrijpen.
Tafseers
Lagen
Lessen
Reflecties
Antwoorden
Qiraat
Hadith

بنی اسرائیل کی عادت کے مطابق ، ان کے ہاں بطور قربانی اور تقرب الی اللہ گائے ذبح ہوا کرتی تھی ، رہا یہ منظر کہ ایک بےجان قطعہ لحم ایک بےجان مقتول کے اندر بظاہر زندگی کے آثا رپیدا کردیتا ہے ، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ گوشت کا ٹکڑا محض ظاہری سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ماہرہ کا اظہار کررہا ہے ، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ لوگ اس کا اثر اور نتیجہ تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن مردے کو جلانے کا یہ طریق کاران کے فہم سے باہر ہے ۔ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ” وہ مردوں کو کیوں کر زندہ کرتا ہے ؟ یوں جیسا کہ تم بچشم سر دیکھ رہے ہو ، لیکن اسکے باوجود اس کی حقیقت سے بیخبر ہو۔ نہیں جانتے کہ وہ کیوں کر زندہ ہوا ؟ مقصد یہ ہے کہ ایسی ہی بےمشقت اور بڑی سہولت سے اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کردے گا۔

موت وحیات کی نوعیت کے درمیان کس قدر بعد ہے۔ اس فرق سے سر چکراجاتے ہیں لیکن قدرت الٰہی کے مقابلے میں موت سے حیات اور حیات سے موت ایک معمولی اور آسان عمل ہوتا ہے ، کیونکر ؟ بس یہی وہ بات ہے جو ہر انسان کے ادراک سے وراء ہے ۔ اسے کوئی نہیں پاسکتا ۔ موت وحیات کے بھید کو پانا اور اصل اسرار الٰہیہ کو پانا ہے اور اس جہان لافانی میں اللہ کے اس راز تک رسائی پانا ممکن نہیں ہے ۔ اگرچہ انسان اس بھید اور راز پر غور کرکے اس سے نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔

وَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اور اللہ تعالیٰ نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “

اب ہم حسن ادا اور سیاق وسباق سے اس کی ہم آہنگی پر آتے ہیں ۔

یہ ایک مختصر قصہ ہے ، جس کا آغاز بھی نہایت مجمل انداز میں ہوتا ہے ۔ ابتداء میں ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم کیوں دیتے ہیں ؟ جیسا کہ خود بنی اسرائیل کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ انہیں یہ حکم کیوں دیا جارہا ہے ؟ یوں بنی اسرائیل کے جذبہ اطاعت اور جذبہ تسلیم ورضا کو آزمایا جاتا ہے ۔

اس کے بعد اصل قصہ شروع ہوجاتا ہے ۔ بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے مابین گفتگو شروع ہوتی ہے ہے ۔ یہ بات بڑھتی جاتی ہے اور دوسری جانب اللہ تعالیٰ بھی اس گفتگو میں برابر شریک ہیں لیکن معلوم نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ؟ حالانکہ وہ ہر بار آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے پوچھ کر بتائیں اور آپ بھی پہلے اپنے رب سے پوچھتے اور پھر جواب انہیں سنادیتے ۔ اگرچہ سیاق کلام میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے اللہ سے کیا پوچھا اور اللہ نے اس کا کیا جواب دیا ، یہ سکوت اور یہ خاموشی اللہ تعالیٰ کی بزرگی اور برتری اور علومرتبت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔ بنی اسرائیل جس طریقہ سے گفتگو کرنے کے عادی تھے اور جس طرح گفتگو بالخصوص اس واقعہ میں وہ کررہے تھے ، ہرگز مناسب نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضرت موسیٰ کے سوال و جواب کا بھی اس میں ذکر کیا جائے۔

آخر میں اچانک ........ جیسا کہ اس وقت بنی اسرائیل کے لئے یہ بات بالکل خلاف توقع تھی ۔ بنی اسرائیل کو حکم ہوتا ہے کہ وہ مذبوحہ بقرہ کے مردہ اور بےجان ٹکڑے کو مقتول پر ماریں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح زندہ ہوجاتا ہے اور بات کرتا ہے ۔ حالانکہ بقرہ کے گوشت میں نہ زندگی تھی اور نہ زندگی کا کوئی سامان تھا۔

غرض قرآن کریم کے دیگر مختصر بہترین قصوں کی طرح اس مختصر قصے میں حکیمانہ موضوع سخن کے عین مطابق ، نہایت ہی حکیمانہ طرزادا اختیار کی گئی ہے۔

قصے کے اس آخری منظر کے اختتام پر اور اس قصے سے پہلے کے عبرت انگیز مظاہر اور سبق آموز واقعات کے نتیجے کے طور پر اس بات کی توقع تھی کہ اب تو بنی اسرائیل کے دل پگھل جائیں گے اور ان کے دلوں میں خوف خدا اور تقویٰ کے جذبات امڈ آئیں گے ۔ لیکن ہمارے تعجب کی انتہاء نہیں رہتی جب ہم دیکھتے ہیں کہ کلام کا خاتمہ بالکل خلاف توقع ان الفاظ پر ہوتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Blijf verbonden met de Koran ❤️

Korte, betekenisvolle herinneringen om tot rust te komen, te reflecteren en verbonden te blijven met de Koran.

Lees, luister, zoek en reflecteer over de Koran

Quran.com is een vertrouwd platform dat wereldwijd door miljoenen mensen wordt gebruikt om de Koran in meerdere talen te lezen, te doorzoeken, te beluisteren en erover na te denken. Het biedt vertalingen, tafseer, recitaties, woord-voor-woordvertalingen en tools voor een diepere studie, waardoor de Koran voor iedereen toegankelijk is.

Als Sadaqah Jariyah zet Quran.com zich in om mensen te helpen een diepe verbinding met de Koran te maken. Ondersteund door Quran.Foundation , een non-profitorganisatie. Quran.com blijft groeien als een gratis en waardevolle bron voor iedereen, Alhamdulillah.

Navigeren
Home
Koran Radio
reciteurs
Over ons
Ontwikkelaars
Product updates
Feedback
Hulp
Doneren
Onze projecten
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Non-profitprojecten die eigendom zijn van, beheerd worden door of gesponsord worden door Quran.Foundation.
Populaire links

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

SitemapPrivacyAlgemene voorwaarden
© 2026 Quran.com. Alle rechten voorbehouden