Log masuk
Grow Beyond Ramadan!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
70:20
اذا مسه الشر جزوعا ٢٠
إِذَا مَسَّهُ ٱلشَّرُّ جَزُوعًۭا ٢٠
إِذَا
مَسَّهُ
ٱلشَّرُّ
جَزُوعٗا
٢٠
Apabila ia ditimpa kesusahan, dia sangat resah gelisah;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 70:19 hingga 70:21

” اس “ انسان کی تصویر ذرا دیکھئے ، یہ ایمان سے محروم انسان ہے۔ قرآن کریم اس کی کس قدر سچی تصویر کھینچتا ہے۔ اور اس تصویر میں ایک غیر مومن انسان کے خدوخال اور فیچرز کس قدر نمایاں ہیں۔ ان تمام خدوخال سے انسان تب ہی محفوظ ہوتا ہے ، جب وہ مومن ہوتا ہی۔ ایک مومن پر اگر کوئی مصیبت آجائے تو وہ صبر جمیل کا پیکر ہوتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے۔ جزع وفزع سے دور ، اور اگر اسے خوشحالی نصیب ہو تو وہ نہ بخل کرتا ہے نہ اتراتا ہے۔

ان الانسان .................... منوعا (12) (07 : 91 تا 12) ”” انسان تھرڈلاپیدا کیا گیا ہے ، جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہے اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک ایک لفظ مصور قدرت کا ایک رنگ ہے اور وہ انسان کے چہرے اور اس کی خصوصیات کو صاف بتارہا ہے۔ یہاں تک کہ جب انسان یہ نہایت ہی مختصر سی تین آیات پڑھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ ان میں چند ہی کلمات استعمال ہوئے ہیں ، تو اسے ایمان سے خالی انسان کی ایک نہایت چمکدار اور واضح تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے تمام فیچرز نمایاں ہیں۔ ھلوع ، جزوع اور منوع اس انسان کو اگر کوئی مصیبت پیش آجائے یا حقائق حیات کا کوئی ڈنگ لگ جائے تو یہ آہ وفغاں کرنے لگتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ بس وہ اب اسی حالت میں رہے گا۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب تو وہ ہمیشہ کے لئے اس مصیبت میں پھنس گیا ہے ، اور کوئی نہیں ہے جو اس کو اس مصیبت سے نکال دے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ گویا مصیبت کی یہ گھڑی دائمی ہے۔ اس وقت یہ شخص اوہام میں بندھ جاتا ہے اور مصیبت اور مشقت بڑھ جاتی ہے۔ اس کے تصور میں بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ اس مشکل کے بعد کوئی آسانی بھی آسکتی ہے۔ وہ اللہ سے کسی قسم کی رحمت اور مہربانی کا مامیدوار نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ جزع فزع اس کو کھا جاتی ہے۔ اس کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور اس صورت کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک قوی ذات کی پناہ میں نہیں ہوتا۔ اس کا کوئی مضبوط سہارا نہیں ہوتا ، جس سے اس کو کوئی امید ہے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ خوشحال ہو ، عافیت میں ہو ، تو وہ نیکی کا کوئی کام کرنے سے رکنے والا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ سہولیات اس کو اس کی محنت اور مشقت کی وجہ سے حاصل ہیں ، اس لئے یہ ان کو اپنے لئے مخصوص کرلیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے چھپا لیتا ہے اور بلکہ یہ اپنی مملوکات کا غلام ہوجاتا ہے۔ اور اپنی جائیداد اور مال پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رزق کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ رزق کے ملنے میں خود انسان کا کردار کیا ہے۔ یہ شخص یہ امید نہیں رکھتا کہ اگر ہے ، دونوں حالتوں میں تھرڈلا ہے۔ حالت خیر میں بھی اور حالت شر میں بھی۔ یہ ایک انسان کی بہت ہی بری تصویر ہے۔ لیکن اس انسان کی جس کا دل نور ایمانی سے خالی ہو۔

لہٰذا اللہ پر ایمان لانا دراصل بڑا اہم مسئلہ ہے۔ یہ محض ایک لفظ نہیں ہے جو زبان سے ادا کردیا جائے۔ اور نہ ہی یہ چند مذہبی رسومات عبادات سے متعلق ہے۔

یہ دراصل ایک نفسیاتی حالت ہے اور یہ ایک مکمل نظام حیات ہے اور حالات وواقعات کے لئے یہ ایک معیار ہے۔ اور انسان کا دل اگر ایمان سے خالی ہوجائے تو وہ اس قدر ہلکا ہوجاتا ہے جس طرح پرندوں کا ایک پر جسے ہوا کے جھونکے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر اڑا کر گھماتے ہیں اس کا کوئی وزن اور پیمانہ نہیں ہوتا۔ اس قسم کا انسان ہمیشہ قلق اور خوف کا شکار رہتا ہے۔ اگ را سے کسی مصیبت سے دو چار ہونا پڑے تو وہ جزع فزع کرتا ہے۔ اگر اسے کوئی بھلائی نصیب ہو تو بخیل ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کا ظرف ایمان سے بھر اہوا ہو ، تو وہ نہایت اطمینان ، عافیت میں ہوتا ہے ، اس لئے کہ اس کا ربط ایک حقیقی سرچشمے سے ہوتا ہے۔ جہاں سے تمام واقعات و حالات کنٹرول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی تقدیر پر مطمئن ہوتا ہے ، چاہے خیر ہو یا شر ہو۔ اگر خیر ہو تو وہ مطمئن ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا شعور رکھتا ہے۔ اللہ کی آزمائشوں میں وہ ہمیشہ شمع امید روشن رکھتا ہے۔ کہ مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ وہ امید رکھتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ اسے اگر خیر ملتی ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے کچھ فرائض ہیں۔ اس کے لئے خرچ کرتا ہے اور اسے اس کی جزاء آخرت میں ملے گی۔ بلکہ دنیا وآخرت دونوں میں اسے جزاء ملے گی۔ لہٰذا ایمان دنیا میں ایک ایسی کمائی ہے جس کی جزاء آخرت میں ملے گی اور اس کی وجہ سے انسان کو راحت ، اطمینان اور ثبات وقرار ملتا ہے۔ اور پوری زندگی میں وہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اہل ایمان کو اس صورت حال سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Derma
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara