Log masuk
Grow Beyond Ramadan!
Ketahui lebih lanjut
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
50:8
تبصرة وذكرى لكل عبد منيب ٨
تَبْصِرَةًۭ وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍۢ مُّنِيبٍۢ ٨
تَبۡصِرَةٗ
وَذِكۡرَىٰ
لِكُلِّ
عَبۡدٖ
مُّنِيبٖ
٨
(Kami adakan semuanya itu) untuk menjadi perhatian dan peringatan, (yang menunjukkan jalan kebenaran), kepada tiap-tiap seorang hamba Allah yang mahu kembali kepadaNya (dengan taat dan berbakti).
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 50:8 hingga 50:9

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔

یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔

یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔

یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔

لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔

اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Derma
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara