Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
38:71
اذ قال ربك للملايكة اني خالق بشرا من طين ٧١
إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ إِنِّى خَـٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن طِينٍۢ ٧١
إِذۡ
قَالَ
رَبُّكَ
لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ
إِنِّي
خَٰلِقُۢ
بَشَرٗا
مِّن
طِينٖ
٧١
(Ingatkanlah peristiwa) ketika Tuhanmu berfirman kepada malaikat: " Sesungguhnya Aku hendak menciptakan manusia - Adam dari tanah;
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 38:71 hingga 38:72

آیت نمبر 71 تا 72

ہمیں اس کا علم نہیں ہے کہ مکالمہ کس انداز میں ہوا ۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کے ساتھ مکالمے کی کیفیت کیا ہے اور یہ بھی ہمیں معلوم نہیں ہے کہ فرشتے اللہ سے ہدایات کس طرح اخذ کرتے ہیں۔ نہ ہم فرشتوں کی حقیقت سے باخبر ہوں ۔ نہ ہمیں ان مسائل میں الجھنے کی ضرورت لاحق ہے اور نہ کوئی فائدہ متوقع ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس قصے کا جو مطلب ہے اور اس کے اندر جو فلسفہ ہے اس پر بات کریں۔

اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ جس طرح زمین کی تمام ذی روح چیزوں کو مٹی سے بنایا۔ تمام زندہ مخلوقات کے عناصر ترکیبی مٹی میں موجود ہیں۔ صرف ایک چیز ابھی تک راز ہے کہ روح اور حیات اس کے اندر کہاں سے آئی اور کس طرح آئی۔ اس راز کے سوا انسان کی ذات کے تمام مٹی سے ہیں۔ اور انسان دوسرے حیوانوں کے مقابلے میں انسان قرار پایا۔ وہ اسی روح کی وجہ سے جو اللہ نے اس کی ذات کے اندر پھونکا۔ انسان کی ماں یہ زمین ہے۔ زمین کے عناصر سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اور جب اس سے روح جدا ہوتی ہے تو وہ پھر مٹی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب اس کے جسد خاکی سے روح نکلتی ہے تو اس سے اس کے آثار علوی نکل جاتے ہیں۔

روح کی پھونک کی کیا حقیقت ہے ' اس کی اہلیت سے ہم بیخبر ہیں ' البتہ روح کے آثار ہمارے علم میں ہیں۔ یہ روحانی آثار ہیں جن کی بنا پر یہ حضرت انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور اس روح ہی کی وجہ سے وہ روحانی اور عقلی ارتقاء کرتا ہے ۔ یہ روح ہی ہے جس کی وجہ سے انسان ماضی سے تجربات حاصل کرتا ہے۔ اور مستقبل کے لیے راہ عمل متعین کرتا ہے۔ اس طرح انسانی عقل حواس کے مدرکات اور عقل کے مدرکات سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ اور اسے وہ روحانی معلومات حاصل ہوتی جو حواس اور عقل کے دائرے سے وراء ہیں۔

عقل اور روحانی ارتقاء انسان کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس زمین پر زندہ ہونے والے تمام دوسرے ذی حیات انسان کے ساتھ اس خاصہ میں شریک نہیں ہیں۔ جب سے انسان پیدا ہوا ہے اس کے ساتھ دوسرے حیوانات بھی پیدا ہوئے۔ لیکن انسان اور زمین کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ حیوانات میں سے کوئی حیوان عقل اور روح کے اعتبار سے انسان جیسی ترقی کر گیا ہو۔ اگر ہم عضویاتی ارتقاء کو تسلیم بھی کرلیں لیکن عقلی ارتقاء کی کوئی مثال نہیں ہے۔

اللہ نے اس بشری مخلوق میں اپنی روح پھونکی ہے۔ کیونکہ اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ حضرت انسان زمین پر اللہ کا خلیفہ ہو اور اس خلافت اور نیابت کی رو سے زمین کے اختیارات اپنے حدودقدرت کی حد تک سنبھال لے۔ یعنی اس کی تعمیر کرے۔ اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کو اپنے کام میں لائے اور یہاں خدا کی منشاء کو پورا کرے۔

اللہ نے انسان کو ترقی اور حصول علم دی اور اپنے روز آفرینش سے وہ ترقی کررہا ہے بشرطیکہ وہ اس روح کے منبع سے جڑا رہے یعنی ذات باری سے۔ اور ذات باری سے وہ صراط مستقیم کی طرف گامزن ہونے کی ہدات لیتا رہے لیکن اگر وہ عالم بالا کی ہدایات سے منحرف ہوجائے تو پھر انسان کی ذات میں ترقی اور آگاہی کا جو تموج ہے وہ متوازن نہیں رہتا ۔ اور اس کی سمت بھی درست نہیں رہتی۔ اور بعض اوقات انسان آگے بڑھنے کے بجائے ترقی معکوس کرتا ہے اور یہ تموج پھر اس کی ذاتی اور انسانی سلامتی کے لیے خطرناک صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اگر وہ انسانی خصوصیات میں رفعت قہقری اختیار کرلے تو حقیقی ارتقاء کے بجائے وہ زوال کی راہ پر پڑجاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر اس کے علوم وفنون زیادہ ہوگئے ہوں۔ وہ تجربات میں بہت آگے جاچکا ہو اور زندگی کے بعض پہلوؤں کے اعتبار سے ترقی کر گیا ہو۔

یہ انسان ! نہایت ہی جھوٹا انسان ' کائنات کے ان عظیم اور ہولناک اجسام وکرات کی بہ نسبت ! یہ انسان ! جس کی قوتیں نہایت محدود ہیں جس کا عمل بہت قصیر ہے۔ جس کا علم بہت ہی محدود ہے۔ یہ انسان اس قدر عظمت و کرامت حاصل ہی نہ کرسکتا تھا۔ اگر اللہ نے اس میں اپنی روح نہ پھونکی ہوتی اور اس پر اللہ کا یہ مخصوص کرم نہ ہوا ہوتا۔

ذرا سوچو ' اس انسان کی حیثیت ہی کیا ہے۔ یہ تو اس کائنات کے اندر ایک نہایت ہی چھوٹا سا کیڑا ہے اور یہ لاتعدولا نحصی دوسرے زندہ کیڑوں ، مکوڑوں اور پرندوں اور چرندوں کے ساتھ یہاں رہتا ہے اور یہ زمین کیا ہے ، یہ کسی ایک نظام شمسی میں چھوٹی سی گیند ہے اور اس قسم کی کئی بلین گیندیں اس کائنات میں تیرتی پھرتی ہیں۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کا آغاز کہاں سے ہے اور انتہا کہاں پر ہے ' یہ انسان ! اس انسان کو فرشتے سجدہ کرتے ہیں۔ اللہ کے فرشتے ' یہ محض اس نفح روح کی وجہ سے ہے جو نہایت ہی گہراراز ہے اور عظیم راز ہے۔ اس راز ہی کی وجہ سے یہ انسان زمانہ قدیم سے محض حیوان رذیل نہیں ہے۔ اگر اس سے یہ روح اور روحانیات کو منفی کردیا جائے تو یہ ایک حقیر مٹی کا ٹکڑا ہے۔ ملائکہ نے بہرحال امرالہٰی کی تعمیل کی۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Kekal Terhubung dengan Al-Quran ❤️

Peringatan ringkas yang bermakna untuk menetapkan semula, merenung dan kekal terhubung dengan al-Quran.

Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Derma
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara
Sumbangan