Log masuk
Log masuk
Log masuk
Pilih Bahasa
34:8
افترى على الله كذبا ام به جنة بل الذين لا يومنون بالاخرة في العذاب والضلال البعيد ٨
أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَـٰلِ ٱلْبَعِيدِ ٨
أَفۡتَرَىٰ
عَلَى
ٱللَّهِ
كَذِبًا
أَم
بِهِۦ
جِنَّةُۢۗ
بَلِ
ٱلَّذِينَ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
بِٱلۡأٓخِرَةِ
فِي
ٱلۡعَذَابِ
وَٱلضَّلَٰلِ
ٱلۡبَعِيدِ
٨
"Adakah ia berdusta terhadap Allah, atau ia kena penyakit gila?" (Tidak ada satupun) bahkan orang-orang yang tidak percaya kepada hari akhirat tetap beroleh (di sana) azab seksa yang seburuk-buruknya dan (di sini) tetap berada dalam kesesatan yang jauh terpesong.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Renungan
Jawapan
Qiraat
Hadis
Anda sedang membaca tafsir untuk kumpulan ayat dari 34:7 hingga 34:8

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ والضلل البعید (7 – 8)

یہ لوگ قیام قیامت کو اس قدر عجیب سمجھتے تھے۔ یہ لوگ قیامت کے قائل کو قابل تعجب یا مجنون یا چھوٹا سمجھتے تھے۔ ذرا انداز گفتگو کو دیکھو “ بتائیں تمہیں ایسا شخص جو کہتا ہے کہ جن تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہوجائے گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دئیے جاؤ گے “۔ یہ ایک عجیب و غریب شخص پیدا ہوگیا ہے جو اس قسم کی انہونی باتیں کرتا ہے کہ مرنے کے بعد ، مٹی کے ذرات بن جانے کے بعد کے بعد اور مٹی میں رل مل جانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندہ کردیا جائے گا۔

یہ لوگ مزید تعجب کرتے ہیں اور نہایت ہی انوکھا سمجھتے ہوئے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ یا تو یہ اللہ کے نام سے افتراء باندھتا ہے اور یا پھر یہ شخص مجنون ہے۔ کیونکہ ان کے زعم کے مطابق اس قسم کی باتیں یا تو جھوٹا شخص کرسکتا ہے یا مجنوں کرسکتا ہے۔ اگر مجنون ہے تو یہ کلام ہذیان ہے اور اگر جھوٹا ہے تو یہ تعجب خیز ہے۔ وہ یہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ حضرت محمد ﷺ یہ کہتے ہیں کہ تمہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا لیکن خود ان کی بات تعجب خیز ہے۔ کیا یہ لوگ پہلی بار پیدا نہیں کیے گئے ؟ انسان کی تخلیق کیا کوئی کم واقعہ ہے۔ پہلی بار ایسی تخلیق ؟ اگر یہ اسے تدبر اور غور سے دیکھیں تو کبھی بھی تعجب نہ کریں۔ لیکن یہ گمراہ ہیں اور ہدایت کی راہ نہیں لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس تعجب پر ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے۔

بل الذین لا یومنون بالاخرۃ فی العذاب والضلل البعید (34: 8) ” بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ خواب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں “۔ اس عذاب سے مراد عذاب آخرت بھی ہوسکتا ہے گویا وہ عذاب ان پر واقعہ ہوگیا ہے۔ چونکہ وہ گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اس لیے اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جس طرح عذاب الٰہی میں مبتلا ہیں اسی طرح گمراہ بھی ہیں۔ یہ بہت گہری حقیقت ہے اس لیے کہ جس شخص کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ نفسیاتی لحاظ سے سخت عذاب اور کشمکش میں ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو دنیا کی بےانصافیوں میں نہ انصاف کی امید ہوتی ہے ، نہ عدل کی ، نہ جزائے آخرت کی اور نہ اخروی اجر کی۔ انسانی زندگی میں ایسے واقعات اور حوادث آتے ہیں کہ انسان انہیں صرف اجر اخروی کی خاطر ہی برداشت کرسکتا ہے اور یہ تسلی رکھتا ہے کہ نیکوکار کے لیے اجر حسن ہے اور بدکار کے لئے سزا ہے۔ کئی ایسی مشکلات ہوتی ہیں کہ انسان رضائے الٰہی اور جزائے اخروی کے لیے انہیں برداشت کرتا ہے کیونکہ آخرت میں چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی ضائع نہیں ہوتا۔ اگر وہ ذرا برابر ہو اور کسی چٹان کے اندر ہو ، وہاں سے بھی اللہ اس مطلوب ذرے کو جو رائی کے دانے کے برابر ہو ، لے کر آتا ہے اور جو شخص اس تروتازہ اور فرحت بخش اور روشن چراغ سے محروم ہے وہ گویا دائمی عذاب میں ہے۔ اس دنیا میں بھی منکر آخرت ایک مسلسل عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور آخرت میں تو وہ اپنے اعمال کی جزا بہرحال پائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ انسان کے لیے ایک رحمت ہے ، ایک عظیم نعمت ہے جس کے مستحق اللہ کے مخلص بندے ہوتے ہیں ، جو حق کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور جن کی خواہش ہر وقت یہ ہوتی ہے کہ وہ راہ راست پر گامزن ہوں ۔ راجح بات یہی ہے کہ اس آیت میں اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ گمراہی کے ساتھ ساتھ اس دنیا میں بھی ایک مصیبت میں گرفتار ہیں۔

ان مکذبین کو اب ایک سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی اس گمراہی کی وجہ سے مزید عذاب دنیا ان پر نازل کر دے اور آسمان کا ایک ٹکڑا ان پر گرا دے یا ان کو اس ضلالت کی وجہ سے زمین کے اندر دھنسا دے۔ یہ اس نظام کائنات پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام تو کسی بھی وقت بگڑ سکتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

Kekal Terhubung dengan Al-Quran ❤️

Peringatan ringkas yang bermakna untuk menetapkan semula, merenung dan kekal terhubung dengan al-Quran.

Baca, Dengar, Cari, dan Renungkan Al-Quran

Quran.com ialah platform dipercayai yang digunakan oleh berjuta-juta orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengar dan merenung Al-Quran dalam pelbagai bahasa. Ia menyediakan terjemahan, tafsir, bacaan, terjemahan perkataan demi perkataan, dan alat untuk kajian yang lebih mendalam, menjadikan al-Quran boleh diakses oleh semua orang.

Sebagai Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang ramai berhubung secara mendalam dengan al-Quran. Disokong oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi bukan untung 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai sumber percuma dan berharga untuk semua, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Al-Quran
Qari
Tentang Kami
Pemaju (Developers)
Kemas kini produk
Maklum balas
Bantuan
Derma
Projek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Projek tanpa untung yang dimiliki, diurus atau ditaja oleh Quran.Foundation
Pautan yang di gemari

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

Peta lamanPrivasiTerma dan Syarat
© 2026 Quran.com. Hak cipta terpelihara
Sumbangan