Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
34:14
فلما قضينا عليه الموت ما دلهم على موته الا دابة الارض تاكل منساته فلما خر تبينت الجن ان لو كانوا يعلمون الغيب ما لبثوا في العذاب المهين ١٤
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ ١٤
فَلَمَّا
قَضَيۡنَا
عَلَيۡهِ
الۡمَوۡتَ
مَا
دَلَّهُمۡ
عَلٰى
مَوۡتِهٖۤ
اِلَّا
دَآ بَّةُ
الۡاَرۡضِ
تَاۡ كُلُ
مِنۡسَاَتَهُ ۚ
فَلَمَّا
خَرَّ
تَبَيَّنَتِ
الۡجِنُّ
اَنۡ
لَّوۡ
كَانُوۡا
يَعۡلَمُوۡنَ
الۡغَيۡبَ
مَا
لَبِثُوۡا
فِى
الۡعَذَابِ
الۡمُهِيۡنِ ؕ‏
١٤
Maka ketika Kami telah menetapkan kematian atasnya (Sulaiman), tidak ada yang menunjukkan kepada mereka kematiannya itu kecuali rayap yang memakan tongkatnya. Maka ketika dia telah tersungkur, tahulah jin itu bahwa sekiranya mereka mengetahui hal yang gaib tentu mereka tidak menetap dalam siksa yang menghinakan.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
سلیمان علیہ السلام کی وفات ٭٭

سلیمان علیہ السلام کی موت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اور یہ بھی کہ جو جنات ان کے فرمان کے تحت کام کاج میں مصروف تھے ان پر ان کی موت کیسے نامعلوم رہی؟ وہ انتقال کے بعد بھی لکڑی کے ٹیکے پر کھڑے ہی رہے اور یہ انہیں زندہ سمجھتے ہوئے سر جھکائے اپنے سخت سخت کاموں میں مشغول رہے۔

صفحہ نمبر7164

مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہی تقریباً سال بھر اسی طرح گزر گیا۔ جس لکڑی کے سہارے آپ کھڑے تھے جب اسے دیمک چاٹ گئی اور وہ کھوکھلی ہو گئی تو آپ گر پڑے۔ اب جنات اور انسانوں کو آپ کی موت کا پتہ چلا۔ تب تو نہ صرف انسانوں کو بلکہ خود جنات کو بھی یقین ہو گیا کہ ان میں سے کوئی بھی غیب داں نہیں۔

ایک مرفوع منکر اور غریب حدیث میں ہے لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں فرماتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو ایک درخت اپنے سامنے دیکھتے اس سے پوچھتے کہ تو کیسا درخت ہے تیرا نام کیا ہے؟۔ وہ بتا دیتا آپ اسے اسی استعمال میں لاتے۔ ایک مرتبہ جب نماز کو کھڑے ہوئے اور اسی طرح ایک درخت دیکھا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا ضروب۔ پوچھا تو کس لیے ہے؟ کہا اس گھر کو اجاڑنے کے لئے تب آپ نے دعا مانگی کہ اللہ میری موت کی خبر جنات پر ظاہر نہ ہونے دے تاکہ انسان کو یقین ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے۔ اب آپ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور جنات کو مشکل مشکل کام سونپ دیئے آپ کا انتقال ہو گیا لیکن لکڑی کے سہارے آپ ویسے ہی کھڑے رہے جنات دیکھتے رہے اور سمجھتے رہے کہ آپ زندہ ہیں اپنے اپنے کام میں مشغول رہے ایک سال کامل ہو گیا۔ چونکہ دیمک آپ کی لکڑی کو چاٹ رہی تھی سال بھر گزرنے پر وہ اسے کھا گئی اور اب سلیمان علیہ السلام گر پڑے اور انسانوں نے جان لیا کہ جنات غیب نہیں جانتے ورنہ سال بھر تک اس مصیبت میں نہ رہتے۔ لیکن اس کے ایک راوی عطا بن مسلم خراسانی کی بعض احادیث میں نکارت ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر7165

بعض صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی عادت تھی آپ سال سال دو دو سال یا کم و بیش مدت کے لئے مسجد قدس میں اعتکاف میں بیٹھ جاتے آخری مرتبہ انتقال کے وقت بھی آپ مسجد بیت المقدس میں تھے ہر صبح ایک درخت آپ کے سامنے نمودار ہوتا۔ آپ اس سے نام پوچھتے فائدہ پوچھتے وہ بتاتا آپ اسی کام میں اسے لاتے بالآخر ایک درخت ظاہر ہوا جس نے اپنا نام ضروبہ بتایا کہا تو کس مطلب کا ہے کہا اس مسجد کے اجاڑنے کے لئے۔ سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے فرمانے لگے میری زندگی میں تو یہ مسجد ویران ہو گی نہیں البتہ تو میری موت اور اس شہر کی ویرانی کے لئے ہے۔ چنانچہ آپ نے اسے اپنے باغ میں لگا دیا مسجد کی بیچ کی جگہ میں کھڑے ہو کر ایک لکڑی کے سہارے نماز شروع کر دی۔ وہیں انتقال ہو گیا لیکن کسی کو اس کا علم نہ ہوا۔ شیاطین سب کے سب اپنی اپنی نوکری بجا لاتے رہے کہ ایسا نہ ہو ہم ڈھیل کریں اور اللہ کے رسول علیہ السلام آ جائیں تو ہمیں سزا دیں۔ یہ محراب کے آگے پیچھے آئے ان میں جو بڑا پاجی شیطان تھا اس نے کہا دیکھو جی اس میں آگے اور پیچھے سوراخ ہیں اگر میں یہاں سے جا کر وہاں سے نکل آؤں تو میری طاقت مانو گے یا نہیں؟

صفحہ نمبر7166

چنانچہ وہ گیا اور نکل آیا لیکن اسے سلیمان علیہ السلام کی آواز نہ آئی۔ دیکھ تو سکتے نہ تھے کیونکہ سلیمان علیہ السلام کی طرف نگاہ بھر کر دیکھتے ہی وہ مر جاتے تھے لیکن اس کے دل میں کچھ خیال سا گزرا اس نے پھر اور جرأت کی اور مسجد میں چلا گیا دیکھا کہ وہاں جانے کے بعد وہ نہ جلا تو اس کی ہمت اور بڑھ گئی اور اس نے نگاہ بھر کر آپ کو دیکھا تو دیکھا کہ وہ گرے پڑے ہیں اور انتقال فرما چکے ہیں اب آ کر سب کو خبر کی لوگ آئے محراب کو کھولا تو واقعی اللہ کے رسول علیہ السلام کو زندہ نہ پایا۔ آپ کو مسجد سے نکال لائے۔ مدت انتقال کا علم حاصل کرنے کے لئے انہوں نے لکڑی کو دیمک کے سامنے ڈال دیا ایک دن رات تک جس قدر دیمک نے اسے کھایا اسے دیکھ کر اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے انتقال کو پورا سال گزر چکا۔ تمام لوگوں کو اس وقت کامل یقین ہو گیا کہ جنات جو بنتے تھے کہ ہم غیب کی خبریں جانتے ہیں یہ محض ان کی دھونس تھی۔ ورنہ سال بھر تک کیوں مصیبت جھیلتے رہتے۔ اس وقت سے جنات گھن کے کیڑے کو مٹی اور پانی لا دیا کرتے ہیں گویا اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کہا یہ بھی تھا کہ اگر تو کچھ کھاتا پیتا ہوتا تو بہتر سے بہتر غذا ہم تجھے پہنچاتے۔

لیکن یہ سب بنی اسرائیل کے علماء کی روایتیں ہیں ان میں جو مطابق حق ہوں قبول۔ خلاف حق ہوں مردود دونوں سے الگ ہوں وہ نہ تصدیق کے قابل نہ تکذیب کے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر7167

زید بن اسلم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے کہہ رکھا تھا کہ میری موت کا وقت مجھے کچھ پہلے بتا دینا ملک الموت نے یہی کیا تو آپ نے جنات کو بغیر دروازے کے ایک شیشے کا مکان بنانے کا حکم دیا اور اس میں ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر نماز شروع کی یہ موت کے ڈر کی وجہ سے نہ تھا۔ ملک الموت اپنے وقت پر آئے اور روح قبض کر کے چلے گئے۔ پھر لکڑی کے سہارے آپ سال بھر تک اسی طرح کھڑے رہے جنات ادھر ادھر سے دیکھ کر آپ کو زندہ سمجھ کر اپنے کاموں میں آپ کی ہیبت کی وجہ سے مشغول رہے لیکن جو کیڑا آپ کی لکڑی کو کھا رہا تھا جب وہ آدھی کھا چکا تو اب لکڑی بوجھ نہ اٹھا سکی اور آپ گر پڑے جنات کو آپ کی موت کا یقین ہو گیا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور بھی بہت سے اقوال سلف سے یہ مروی ہے۔

صفحہ نمبر7168
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi