Masuk
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
🚀 Ikuti Tantangan Ramadan kami!
Pelajari lebih lanjut
Masuk
Masuk
Pilih Bahasa
18:2
قيما لينذر باسا شديدا من لدنه ويبشر المومنين الذين يعملون الصالحات ان لهم اجرا حسنا ٢
قَيِّمًۭا لِّيُنذِرَ بَأْسًۭا شَدِيدًۭا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱلَّذِينَ يَعْمَلُونَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًۭا ٢
قَيِّمًا
لِّيُنۡذِرَ
بَاۡسًا
شَدِيۡدًا
مِّنۡ
لَّدُنۡهُ
وَيُبَشِّرَ
الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
الَّذِيۡنَ
يَعۡمَلُوۡنَ
الصّٰلِحٰتِ
اَنَّ
لَهُمۡ
اَجۡرًا
حَسَنًا ۙ‏
٢
sebagai bimbingan yang lurus, untuk memperingatkan akan siksa yang sangat pedih dari sisi-Nya dan memberikan kabar gembira kepada orang-orang mukmin yang mengerjakan kebajikan bahwa mereka akan mendapat balasan yang baik.
Tafsir
Lapisan
Pelajaran
Refleksi
Jawaban
Qiraat
Hadits
Anda sedang membaca tafsir untuk kelompok ayat dari 18:2 hingga 18:3

آیت 2 قَـيِّمًا لِّيُنْذِرَ بَاْسًا شَدِيْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ یعنی نبی اکرم پر نزول قرآن کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کو ایک بہت بڑی آفت کے بارے میں خبردار کردیں۔ یہاں لفظ بَاْسًا بہت اہم ہے۔ یہ لفظ و احد ہو تو اس کا مطلب جنگ ہوتا ہے اور جب بطور جمع آئے تو اس کے معنی سختی مصیبت بھوک تکلیف وغیرہ کے ہوتے ہیں۔ جیسے سورة البقرۃ کی آیت 177 آیت البر میں یہ لفظ بطور واحد بھی آیا ہے اور بطور جمع بھی : وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیْنَ الْبَاْسِ ۔ چناچہ وہاں دونوں صورتوں میں اس لفظ کے معنی مختلف ہیں : ”الْْبَاْسَآءِ“ کے معنی فقر و تنگدستی اور مصائب و تکالیف کے ہیں جبکہ ”وَحِیْنَ الْبَاْسِ“ سے مراد جنگ کا وقت ہے۔ بہر حال آیت زیر نظر میں ”بَاْسًا شَدِیْدًا“ سے ایک بڑی آفت بھی مراد ہوسکتی ہے اور بہت شدید قسم کی جنگ بھی۔ آفت کے معنی میں اس لفظ کا اشارہ اس دجالی فتنہ کی طرف ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ کوئی نبی اور رسول ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو دجال کے فتنے سے خبردار نہ کیا ہو کیونکہ یہ فتنہ ایک مؤمن کے لیے سخت ترین امتحان ہوگا اور پوری انسانی تاریخ میں اس فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہے۔ دوسری طرف اس لفظ بَاْسًا شَدِیْدًا کو اگر خاص طور پر جنگ کے معنی میں لیا جائے تو اس سے ”المَلحَمۃُ الْعُظمٰی“ مراد ہے اور اس کا تعلق بھی فتنہ دجال ہی سے ہے۔ کتب احادیث کتاب الفتن کتاب آثار القیامۃ کتاب الملاحم وغیرہ میں اس خوفناک جنگ کا ذکر بہت تفصیل سے ملتا ہے۔ عیسائی روایات میں اس جنگ کو ”ہرمجدون“ Armageddon کا نام دیا گیا ہے۔ بہر حال حضرت مسیح کے تشریف لانے اور ان کے ہاتھوں دجال کے قتل کے بعد اس فتنہ یا جنگ کا خاتمہ ہوگا۔بہت سی احادیث میں ہمیں یہ وضاحت بھی ملتی ہے کہ دجالی فتنہ کے ساتھ سورة الکہف کی ایک خاص مناسبت ہے اور اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اس سورة کے ساتھ ذہنی اور قلبی تعلق قائم کرنا بہت مفید ہے۔ اس مقصد کے لیے احادیث میں جمعہ کے روز سورة الکہف کی تلاوت کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے اور اگر پوری سورت کی تلاوت نہ کی جاسکے تو کم از کم اس کی ابتدائی اور آخری آیات کی تلاوت کرنا بھی مفید بتایا گیا ہے۔ یہاں پر دجالی فتنہ کی حقیقت کے بارے میں کچھ وضاحت بھی ضروری ہے۔ ”دجل“ کے لفظی معنی دھوکہ اور فریب کے ہیں۔ اس مفہوم کے مطابق ”دجال“ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو بہت بڑا دھوکے باز ہو ‘ جس نے دوسروں کو دھوکا دینے کے لیے جھوٹ اور فریب کا لبادہ اوڑھ رکھا ہو۔ اس لیے نبوت کے جھوٹے دعوے داروں کو بھی دجال کہا گیا ہے۔ چناچہ نبی اکرم نے جن تیس دجالوں کی پیدائش کی خبر دی ہے ان سے جھوٹے نبی ہی مراد ہیں۔ دجالیت کے اس عمومی مفہوم کو مدنظر رکھا جائے تو آج کے دور میں مادہ پرستی بھی ایک بہت بڑا دجالی فتنہ ہے۔ آج لوگوں کے اذہان و قلوب نظریات و افکار اور اخلاق و اقدار پر مادیت کا اس قدر غلبہ ہوگیا ہے کہ انسان اللہ کو بھول چکا ہے۔ آج وہ مسبب الاسباب کو بھول کر مادی اسباب پر توکل کرتا ہے۔ وہ قرآن کے اس فرمان کو یکسر فراموش کرچکا ہے کہ : وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ آل عمران یعنی دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے جبکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ آخرت کی زندگی پر پڑے ہوئے دنیا اور اس کی مادیت کے پردے سے دھوکا کھا کر انسان نے دنیوی زندگی ہی کو اصل سمجھ لیا ہے ‘ لہٰذا اس کی تمام دوڑ دھوپ اسی زندگی کے لیے ہے۔ اسی زندگی کے مستقبل کو سنوارنے کی اس کو فکر ہے اور یوں وہ مادہ پرستی کے دجالی فتنے میں گرفتار ہوچکا ہے۔اس کے علاوہ دجال اور دجالی فتنے کا ایک خصوصی مفہوم بھی ہے۔ اس مفہوم میں اس سے مراد ایک مخصوص فتنہ ہے جو قرب قیامت کے زمانے میں ایک خاص شخصیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوگا۔ اس بارے میں کتب احادیث میں بڑی تفصیلات موجود ہیں لیکن بعض روایات میں کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں اور تضادات بھی۔ ان کو سمجھنے کے لیے اعلیٰ علمی سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے کیونکہ ظاہری طور پر نظر آنے والے تضادات میں مطابقت کے پہلوؤں کو تلاش کرنا اہل علم کا کام ہے۔ بہر حال یہاں ان تفاصیل کا ذکر اور ان پر تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔ اس موضوع کے بارے میں یہاں صرف اس قدر جان لینا ہی کافی ہے کہ رسول اللہ نے قرب قیامت کے زمانے میں دجال کے ظاہر ہونے اور ایک بہت بڑا فتنہ اٹھانے کے بارے میں خبریں دی ہیں۔ جو حضرات اس حوالے سے تفصیلی معلومات چاہتے ہوں وہ مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب ”تفسیر سورة الکہف“ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس موضوع پر ”دنیا کی حقیقت“ کے عنوان سے میری ایک تقریر کی ریکارڈنگ بھی دستیاب ہے ‘ جس میں میں نے سورة الکہف کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Baca, Dengarkan, Cari, dan Renungkan Al Quran

Quran.com adalah platform tepercaya yang digunakan jutaan orang di seluruh dunia untuk membaca, mencari, mendengarkan, dan merefleksikan Al-Qur'an dalam berbagai bahasa. Platform ini menyediakan terjemahan, tafsir, tilawah, terjemahan kata demi kata, dan berbagai alat untuk pembelajaran yang lebih mendalam, sehingga Al-Qur'an dapat diakses oleh semua orang.

Sebagai sebuah Sadaqah Jariyah, Quran.com berdedikasi untuk membantu orang-orang terhubung secara mendalam dengan Al-Qur'an. Didukung oleh Quran.Foundation , sebuah organisasi nirlaba 501(c)(3), Quran.com terus berkembang sebagai referensi yang sangat bernilai dan gratis untuk semua orang, Alhamdulillah.

Navigasi
Halaman Utama
Radio Qur'an
Qari
Tentang Kami
Pengembang
Pengkinian Produk
Beri Masukan
Bantuan
Proyek Kami
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyek nirlaba yang dimiliki, dikelola, atau disponsori oleh Quran.Foundation
Link populer

Ayat Kursi

Surah Yasin

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahfi

Surah Al Muzzammil

Peta situsKerahasiaanSyarat dan Ketentuan
© 2026 Quran.com. Hak Cipta Terlindungi