قَالَتْ
لَهُمْ
رُسُلُهُمْ
اِنْ
نَّحْنُ
اِلَّا
بَشَرٌ
مِّثْلُكُمْ
وَلٰكِنَّ
اللّٰهَ
یَمُنُّ
عَلٰی
مَنْ
یَّشَآءُ
مِنْ
عِبَادِهٖ ؕ
وَمَا
كَانَ
لَنَاۤ
اَنْ
نَّاْتِیَكُمْ
بِسُلْطٰنٍ
اِلَّا
بِاِذْنِ
اللّٰهِ ؕ
وَعَلَی
اللّٰهِ
فَلْیَتَوَكَّلِ
الْمُؤْمِنُوْنَ
۟
उनके रसूलों ने उनसे कहा : हम तो तुम्हारे जैसे इनसान ही हैं, परन्तु अल्लाह अपने बंदों में से जिसपर चाहे, उपकार करता है। और हमारे लिए कभी संभव नहीं कि अल्लाह की अनुमति के बिना तुम्हारे पास कोई प्रमाण ले आएँ और ईमान वालों को अल्लाह ही पर भरोसा रखना चाहिए।
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭…
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں نے کہا اللہ کے بارے میں شک؟ یعنی اس کے وجود میں شک کیسا؟ فطرت اس کی شاہد عدل ہے انسان کی بنیاد میں اس کا اقرار موجود ہے۔ عقل سلیم اس کے ماننے پر مجبو
کفار اور انبیاء میں مکالمات ٭٭…
رسولوں کی اور ان کی قوم کے کافروں کی بات چیت بیان ہو رہی ہے۔ قوم نے اللہ کی عبادت میں شک و شبہ کا اظہار کیا اس پر رسولوں