قَالُوْا
یٰشُعَیْبُ
مَا
نَفْقَهُ
كَثِیْرًا
مِّمَّا
تَقُوْلُ
وَاِنَّا
لَنَرٰىكَ
فِیْنَا
ضَعِیْفًا ۚ
وَلَوْلَا
رَهْطُكَ
لَرَجَمْنٰكَ ؗ
وَمَاۤ
اَنْتَ
عَلَیْنَا
بِعَزِیْزٍ
۟
அதற்கவர்கள் ‘‘ஷுஐபே! நீர் கூறுபவற்றில் பெரும்பாலானதை நாம் விளங்க (முடிய)வில்லை. நிச்சயமாக நாம் உம்மை எங்களில் பலவீனமானவராகவே காண்கிறோம். உமது இனத்தார் இல்லாவிடில் உம்மைக் கல் எறிந்தே கொன்றிருப்போம். நீர் நம்மிடம் மதிப்புடையவரல்ல'' என்றார்கள்.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭…
قوم مدین نے کہا کہ ”اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں۔“ سعید رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ ”آپ علیہ السلام کی نگاہ کم تھی۔ مگر آپ علیہ السلام بہت ہی صاف گو تھے، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو خطیب الانبیاء
قوم مدین کا جواب اور اللہ کا عتاب ٭٭…
قوم مدین نے کہا کہ ”اے شعیب! آپ کی اکثر باتیں ہماری سمجھ میں تو آتی نہیں۔ اور خود آپ بھی ہم میں بے انتہا کمزور ہیں