وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۳۵:۴۶
فاصبر كما صبر اولو العزم من الرسل ولا تستعجل لهم كانهم يوم يرون ما يوعدون لم يلبثوا الا ساعة من نهار بلاغ فهل يهلك الا القوم الفاسقون ٣٥
فَٱصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْعَزْمِ مِنَ ٱلرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِل لَّهُمْ ۚ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةًۭ مِّن نَّهَارٍۭ ۚ بَلَـٰغٌۭ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ٣٥
فَٱصۡبِرۡ
كَمَا
صَبَرَ
أُوْلُواْ
ٱلۡعَزۡمِ
مِنَ
ٱلرُّسُلِ
وَلَا
تَسۡتَعۡجِل
لَّهُمۡۚ
كَأَنَّهُمۡ
يَوۡمَ
يَرَوۡنَ
مَا
يُوعَدُونَ
لَمۡ
يَلۡبَثُوٓاْ
إِلَّا
سَاعَةٗ
مِّن
نَّهَارِۭۚ
بَلَٰغٞۚ
فَهَلۡ
يُهۡلَكُ
إِلَّا
ٱلۡقَوۡمُ
ٱلۡفَٰسِقُونَ
٣٥
پس (ای پیامبر) صبر کن، همچنانکه پیامبران اولو العزم صبر کردند [ پیامبران اولو العزم پنج تن هستند: ـ نوح 2 ـ ابراهیم 3 ـ موسی 4 ـ عیسی 5 ـ محمد خاتم الانبیاء علیهم السلام . (تفسیر ابن کثیر)]، و برای (عذاب) آن‌ها شتاب نکن، روزی‌که آنچه را که وعده داده می‌شوند ببینند، گویی جز ساعتی از روز (در دنیا) درنگ نکرده‌اند، این (قرآن) ابلاغی است، پس آیا (قومی) جز قوم فاسق (و نافرمان) هلاک می‌شوند؟!
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث

جن لوگوں نے کفر کیا ، ان کے فیصلے ، دوٹوک فیصلے کے اس منظر اور اہل ایمان ، جنات کے منظر کے بعد ، اور اس سورت کے آخر میں جس کافروں نے نبی ﷺ کے بارے بہت کچھ کہا ، اور قرآن کریم کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا ، اب حضور اکرم ﷺ کو آخری ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ صبر کریں ، جلد بازی نہ کریں۔ آپ نے تو اس سورت کے مناظر میں دیکھ لیا کہ ان کا کیا انجام ہونے والا ہے اور یہ بہت ہی قریب ہے۔

فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔۔ القوم الفسقون (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے ، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ جس روز یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچا دی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا ؟ “

اس آیت کا ہر لفظ ہمارے لئے زاد راہ ہے۔ ہر کلمے اور ہر لفظ کے پیچھے تصاویر ، چھاؤں ، معانی ، اشارات اور فیصلوں اور قدروں کا ایک ذخیرہ ہے۔

فاصبر کما صبرا ۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کو ہدایت ہو رہی ہے اس دور میں آپ پر ظلم اور زیادتیوں کے پہاڑ توڑے جار ہے تھے۔ پوری قوم آپ ﷺ کے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد میں لگی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے بطور یتیم نشوونما پائی تھی اور ابتدائی دور ہی میں ایک ایک کر کے حامیوں اور اولیاء سے محروم کر دئیے گئے تھے۔ باپ گئے ، ماں گئیں ، دادا گئے اور آخر میں چچا گئے۔ پھر آپ ﷺ کی وفا دار بیوی گئیں اور آپ ﷺ اللہ اور اللہ کی دعوت کے لئے فارغ ہوگئے۔ اس طرح اللہ کے سوا ہر سہارے سے محروم ہوگئے۔ آپ ﷺ کو بمقابلہ اجنبیوں کے اپنے رشتہ داروں سے زیادہ اذیت ملی۔ آپ ﷺ نے ایک ایک فرد سے ملاقات کی ، ایک ایک قبیلے سے ملاقات کی کہ میری مدد کرو ، لیکن ہر بار آپ ﷺ منفی جواب کے ساتھ لوٹے۔ بعض لوگوں نے تو مذاق اڑایا۔ بعض نے تو آپ ﷺ کے پیچھے اوباش لگادئیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاؤں لہولہان ہوگئے۔ لیکن آپ ﷺ نے مذکورہ بالا دعا سے زیادہ کچھ نہ کہا۔ اس لیے یہاں آپ ﷺ کو رب ذوالجلال کی طرف سے تسلی کی ضرورت تھی ۔

فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو “۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی دشوار گزار راستہ ہے ۔ دعوت اسلامی کا راستہ بہت ہی مشکل اور بہت ہی تلخ ہے۔ اس کے لئے تو ذات محمدی کی ضرورت ہے۔ جو ہر طرف سے کٹ جائے ، دعوت کے لی کے یکسو ہوجائے۔ پختگی اور ثبات ، باطن کی صفائی اور شفافی میں رب کی ہدایت پر چلے۔ اللہ کے احکام کے مطابق صبرو ثبات کا مظاہرہ کرے اور دعوت کے مخالفین سے انتقام یا ان کے انجام بد کے لئے شتابی نہ کرے۔

لیکن راستے کی مشقتوں اور زخموں کے لئے مرہم کی بھی ضرورت ہے۔ مشکلات کے لئے صبر ایوبی چاہئے۔ تلخیوں کے لئے ایک میٹھا گھونٹ بھی چاہئے اور یہ میٹھا گھونٹ اللہ کی سربند رحمت کا۔

فاصبر کما صبرا۔۔۔۔۔۔ تستعجل لھم (46 : 35) ” پس اے نبی ﷺ صبر کرو جس طرح اولوا لعزم رسولوں نے صبر کیا ہے اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کر “۔ وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے جس طرح ایک دن کا ایک گھٹنہ یا گھڑی بھر۔ آخرت سے پہلے تمام زمانہ بھی دراصل ایک گھڑی ہی ہے۔ اس پورے مکان و زمان کے نقوش انسانی ذہن کے پردے پر اتنے بھی نہ رہیں گے جس طرح دن کے چند لمحات کے نقوش ، پھر یہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں یہ ابدی دنیا کے دورازے پر ہیں۔ صرف اس قدر وقت ہے کہ ہلاکت سے قبل ان تک پیغام پہنچ جائے۔

بلغ فھل یھلک الا القوم الفسقون (46 : 35) ” بات پہنچا دی گئی ! اب نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا “۔ نہیں ، کیونکہ اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لہٰذا ہر داعی کو صبر کرنا چاہئے اور یہ صبر ایک مختصر وقت کے لئے ہے۔ پھر اللہ کے وعدے کے مطابق ہی فیصلہ ہوگا کہ فاسق ہی ہلاک ہوں گے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
اهدا کنید
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است