وارد شوید
وارد شوید
وارد شوید
انتخاب زبان
۲:۱۶
ينزل الملايكة بالروح من امره على من يشاء من عباده ان انذروا انه لا الاه الا انا فاتقون ٢
يُنَزِّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ بِٱلرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ أَنْ أَنذِرُوٓا۟ أَنَّهُۥ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّآ أَنَا۠ فَٱتَّقُونِ ٢
يُنَزِّلُ
ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ
بِٱلرُّوحِ
مِنۡ
أَمۡرِهِۦ
عَلَىٰ
مَن
يَشَآءُ
مِنۡ
عِبَادِهِۦٓ
أَنۡ
أَنذِرُوٓاْ
أَنَّهُۥ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّآ
أَنَا۠
فَٱتَّقُونِ
٢
(الله) فرشتگان را با روح (= وحی) به فرمان خویش بر هرکس از بندگانش بخواهد نازل می‌کند، (با این پیام) که (مردم را) هشدار دهید، (و بگویید:) معبودی (به حق) جز من نیست، پس از من بترسید.
تفاسیر
لایه‌ها
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
حدیث
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 16:1 تا 16:2

آیت نمبر 1 تا 2

مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر رہا تھا اس میں گہری حکمت اور رحمت تھی اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ مزید یہ قرآن کریم جو آیات کونیہ پیش کر رہا تھا اور خود قرآن جو عقلی دلائل پیش کر رہا تھا وہ اس پر غوروفکر نہ کرتے تھے ، حالانکہ یہ دلائل قلب و نظر پر جو اثرات چھوڑتے تھے ، وہ تخویف بذریعہ عذاب سے زیادہ کارگر ہو سکتے تھے۔ انسان کو اللہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے ، اس کے شایان شان تو یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر غور کرے ، محض ڈراوے سے تسلیم کرنا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و خرد کے پہلو سے کمزور ہوں۔ ذراوے سے حریت ارادہ پر بھی زد پڑتی ہے۔

ایسے حالات میں فرمایا :

اتی امر اللہ (16 : 1) “ اللہ کا فیصلہ آگیا ”۔ یعنی اللہ فیصلہ کرچکے ہیں ، ان کا ارادہ متوجہ ہوگیا ہے جو وقت صدور اللہ نے مقرر کیا ہے اس میں ان اوامرو احکام اور فیصلوں کا صدور ہوجائے گا۔ لہٰذا :

فلا تستعجلوہ (16 : 1) “ جلدی نہ مچاؤ ”۔ اللہ کے فیصلے اس کی مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ تمہاری طرف سے شتابی کرنا اللہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرف سے درازی مہلت کی امیدیں بھی ان کو موخر نہیں کرسکتیں۔ عذاب آتا ہے یا قیامت برپا ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا وقوع اور نفاذ اپنے مقررہ وقت پر بہرحال ہوگا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔

ایک شخص اپنی حالت پر جس قدر جمنے کی کوشش بھی کرے یہ فیصلہ کن انداز گفتگو اسے بہرحال متاثر کرتا ہے ، چاہے وہ استکبار کی وجہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرے۔ جس قدر انداز فیصلہ کن ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اللہ کا حکم جب آتا ہے تو وہ اٹل ہوتا ہے ۔ بس صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کا ارادہ کسی امر سے متعلق ہوجائے بس وہ امر واقع ہوجاتا ہے۔ چشم زدن میں وہ وجود میں آجاتا ہے۔ لہٰذا یہ زور دار انداز کلام کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ جس طرح انداز کلام شعور کو متاثر کرتا اسی طرح اللہ کے فیصلے واقعی صورت حالات میں انقلاب برپا کردیتے ہیں۔

رہے مشرکین مکہ کے اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ اور ان کے وہ تمام تصورات جو اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ پر مبنی ہیں تو اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔

سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون (16 : 1) “ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ”۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے تمام ان مشرکوں سے جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یادر ہے کہ شرک میں کوئی انسان تب ہی مبتلا ہوتا ہے جب وہ فکر اعتبار سے گرا پڑا ہو اور اس کے تصورات کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔

اللہ کے احکام واوامر آگئے ، جو شرک سے پاک ہیں اور امر دینے والے باری تعالیٰ بھی شرک سے پاک ہیں اور اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جو مقام دیتے ہیں وہ اس سے بہت بلند ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گمراہانہ خیالات میں ڈوبا ہوا نہیں چھوڑتے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے فرشتے بھیجتے ہیں اور یہ فرشتے ایسے پیغام کے حامل ہوتے ہیں جو انسانوں کی حیات نو اور نجات اخروی کے پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے۔

ینزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔ من عبادہ (16 : 2) “ وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے ” اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ آسمانوں سے فقط بارش ہی نہیں برساتا جو ان کے جسم کے لئے سازو سامان فراہم کرتی ہے بلکہ وہ ملائکہ کو انسان کی روحانی غذا دے کر بھی بھیجتا ہے۔ قرآن کریم اور اسلام کو روح کہنا نہایت ہی معنی خیز ہے۔ پیغام قرآن ایک سوسائٹی کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح ایک انسان کے جسم میں روح ڈال کر زندہ کیا جاتا ہے۔ اس پیغام سے نفس و ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ عقل و شعور کو جلا ملتی ہے اور سوسائٹی اس طرح زندہ اور صحت مند ہوتی ہے کہ اس سے ہر قسم کے فساد ختم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آسمانوں سے انسانی زندگی کے لئے جو برکات و انعامات نازل ہوتے ہیں ، یہ ان میں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ یہ نعمت عظمیٰ وہ مخلوق لے کر آتی ہے جو پاک طینت ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے برگزیدہ افراد پر نازل ہوتی ہے ، جو افضل العباد ہوتے ہیں اور اس روح کائنات کا خلاصہ کیا ہے۔

لا الہ الا انا فاتقون (16 : 2) “ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو ”۔

اللہ وحدہ لا شریک حاکم و معبود ہیں۔ یہ تمام عقیدہ عقائد کی روح ہے ، یہ نفس انسانی کی زندگی ہے ، یہ وہ تصور ہے جس سے سوسائٹی زندہ و توانا ہوتی ہے اور اس کے سوا جو تصورات ہیں انسانی سوسائٹی کے لئے مہلک اور تباہ کن ہیں۔ جو شخص اللہ وحدہ کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا وہ حیران و پریشان ، تباہ و برباد ہوتا ہے۔ اسے ہر طرف سے ایک باطل عقیدہ اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے ، اوہام پر مبنی باہم تناقص تصورات ہر طرف سے دامن گیر ہوتے ہیں اور اس کا نفس ہر وقت وساوس ، ان جانے خوف اور وہم کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی کسی ایک سمت میں کسی متعین ہدف کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ افکار پریشان اور اعمال بےترتیب کے اندر گھرا ہوتا ہے۔

اسلام کی تعبیر روح سے کرنا دراصل ان تمام مفہومات کا اظہار ہے اور سورة کے آغاز میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انعامات کا ذکر فرماتے ہیں ، اسلام کو روح حیات قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل وہ نعمت عظمیٰ ہے ، جس کے بغیر انسان اللہ کی دوسرے نعمتوں سے بھی کماحقہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ نعمت کسی کو نہ دی گئی ہو تو اس کے لئے دوسرے انعامات بھی اپنی قدرو قیمت کھو دیتے ہیں کیونکہ یہ نعمت ہی دراصل انسان کو حیات جاوداں بخشتی ہے۔

اس آیت میں ڈراوے اور انذار کو وحی و رسالت کا اصل مشن قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ اس سورة کے پورے مضامین مکذبین ، مشرکین اور اللہ کی نعمتوں کے منکر اور ناشکرے طبقات کے گرد گھومتے ہیں۔ نیز اس میں ان لوگوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو حلال کو حرام قرار دیتے ہیں جو بہت بڑا جرم ہے اور شرک ہے ، نیز اللہ کے ساتھ عہد کر کے توڑنے والوں پر بھی اس سورة میں تنقید ہے ، نیز جہاں ان لوگوں سے بھی بحث کی گئی ہے جو اسلام کو قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آغاز سورة میں یہ کہنا کہ لوگوں کو ان گھناؤنے جرائم سے ڈراؤ، ایک مناسب آغاز کلام سے کہ لوگو احتیاط کرو ، اللہ سے ڈرو ، اور آخرت کا خوف کرو۔

٭٭٭

اس تمہید کے بعد لوگوں کے سامنے وہ دلائل و شواہد پیش کئے جاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے بعض انعامات کا ذکر ہے جو منعم حقیقی کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ان نشانات و انعامات کا ذکر بکثرت اور فوج در فوج ہے۔ آغاز تخلیق ارض و سما اور تخلیق حضرت انسان سے ہوتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

ماهانه اهدا کننده شوید

کمک‌های ماهانه به ما کمک می‌کند تا Quran.com را بهبود بخشیم و عملیات‌ها را حفظ کنیم، بنابراین کمتر روی جمع‌آوری کمک‌های مالی و بیشتر بر ایجاد تأثیر تمرکز می‌کنیم. بیشتر بدانید

همین حالا اهدا کنید
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
اهدا کنید
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است