Iniciar sesión
Iniciar sesión
Iniciar sesión
Seleccionar idioma

Tazkir ul Quran Tafsir: Yúsuf Ayah 50

12:50
وقال الملك ايتوني به فلما جاءه الرسول قال ارجع الى ربك فاساله ما بال النسوة اللاتي قطعن ايديهن ان ربي بكيدهن عليم ٥٠
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُ ٱلرَّسُولُ قَالَ ٱرْجِعْ إِلَىٰ رَبِّكَ فَسْـَٔلْهُ مَا بَالُ ٱلنِّسْوَةِ ٱلَّـٰتِى قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبِّى بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌۭ ٥٠
وَقَالَﲙ
ٱلۡمَلِكُﲚ
ٱئۡتُونِيﲛ
بِهِۦۖﲜﲝ
فَلَمَّاﲞ
جَآءَهُﲟ
ٱلرَّسُولُﲠ
قَالَﲡ
ٱرۡجِعۡﲢ
إِلَىٰﲣ
رَبِّكَﲤ
فَسۡـَٔلۡهُﲥ
مَاﲦ
بَالُﲧ
ٱلنِّسۡوَةِﲨ
ٱلَّٰتِيﲩ
قَطَّعۡنَﲪ
أَيۡدِيَهُنَّۚﲫﲬ
إِنَّﲭ
رَبِّيﲮ
بِكَيۡدِهِنَّﲯ
عَلِيمٞﲰ
٥٠ﲱ
[Al escuchar la interpretación,] el rey dijo: “¡Tráiganlo ante mí!” Pero cuando el enviado se presentó ante José, éste le dijo: “Regresa ante tu amo y pregúntale qué pasó con aquellas mujeres que se cortaron las manos. Mi Señor está bien enterado de sus conspiraciones”.
Tafsires
Capas
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Hadith
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 12:50 hasta 12:51

قید خانہ سے نکل کر حضرت یوسف کو ایک ملکی کردار ادا کرنا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ آپ کی شخصیت ملکی سطح پر ایک معروف شخصیت بن جائے۔ اس کی صورت بادشاہ کے خواب کے ذریعہ پیدا ہوگئی۔ بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ وہ اس کی تعبیر کے لیے اتنا بے چین ہوا کہ عام اعلان کرکے تمام ملک کے علماء، پیروںاور دانشوروں کو اپنے دربار میں جمع کیا۔ اور ان سے کہا کہ وہ اس خواب کی تعبیر بتائیں مگر سب کے سب عاجز رہے۔ اس طرح خواب کا واقعہ ایک عمومی شہرت کا واقعہ بن گیا۔ اب جب حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر بیان کی اور بادشاہ نے اس کو پسند کیا تو اچانک وہ تمام ملک کی نظروں میں آگئے۔

بادشاہ نے ساری بات سننے کے بعد متعلقہ عورتوں سے اس کی تحقیق کی۔ سب نے بیک زبان حضرت یوسف کو بری الذمہ قرار دیا۔ عزیز مصر کی بیوی اعتراف حق میں سب سے آگے نکل گئی۔ اس نے صاف لفظوں میں اعلان کیا کہ اب سچائی کھل چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا قصور میرا تھا۔ یوسف کا کچھ بھی قصور نہ تھا۔ عزیز مصر کی بیوی (زلیخا) کا یہ اقرار اتنا عظیم عمل ہے کہ عجب نہیں کہ اس کے بعد اس کو ایمان کی توفیق دے دی گئی ہو۔