أَمَّنۡ
هُوَ
قَٰنِتٌ
ءَانَآءَ
ٱلَّيۡلِ
سَاجِدٗا
وَقَآئِمٗا
يَحۡذَرُ
ٱلۡأٓخِرَةَ
وَيَرۡجُواْ
رَحۡمَةَ
رَبِّهِۦۗ
قُلۡ
هَلۡ
يَسۡتَوِي
ٱلَّذِينَ
يَعۡلَمُونَ
وَٱلَّذِينَ
لَا
يَعۡلَمُونَۗ
إِنَّمَا
يَتَذَكَّرُ
أُوْلُواْ
ٱلۡأَلۡبَٰبِ
٩
بھلا وہ شخص جو بندگی کرنے والا ہے رات کی گھڑیوں میں سجود و قیام کرتے ہوئے وہ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار بھی ہے (اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے ؟ حقیقی نصیحت اور سبق تو وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔