تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٨١:٦
وكيف اخاف ما اشركتم ولا تخافون انكم اشركتم بالله ما لم ينزل به عليكم سلطانا فاي الفريقين احق بالامن ان كنتم تعلمون ٨١
وَكَيْفَ أَخَافُ مَآ أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِٱللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِۦ عَلَيْكُمْ سُلْطَـٰنًۭا ۚ فَأَىُّ ٱلْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِٱلْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ٨١
وَكَيۡفَ
أَخَافُ
مَآ
أَشۡرَكۡتُمۡ
وَلَا
تَخَافُونَ
أَنَّكُمۡ
أَشۡرَكۡتُم
بِٱللَّهِ
مَا
لَمۡ
يُنَزِّلۡ
بِهِۦ
عَلَيۡكُمۡ
سُلۡطَٰنٗاۚ
فَأَيُّ
ٱلۡفَرِيقَيۡنِ
أَحَقُّ
بِٱلۡأَمۡنِۖ
إِن
كُنتُمۡ
تَعۡلَمُونَ
٨١
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:80إلى 6:83

جب کسی چیز یا کسی شخصیت کو معبود کادرجہ دے دیا جائے تو اس کے بعد فطری طور پر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ پر اسرار عظمتوں کے تصورات وابستہ ہوجاتے ہیں۔ لوگ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس ذات کو کائناتی نقشہ میں کوئی ایسا برتر مقام حاصل ہے جو دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں۔ اس کو خوش کرنے سے قسمتیں بنتی ہیں اور اس کو ناراض کرنے سے قسمتیں بگڑ جاتی ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم نے جب اپنی قوم کے بتوں کے بارے میں کہا کہ یہ بے حقیقت ہیں، انھیں خدا کی اس دنیا میں کوئی زور حاصل نہیں تو لوگوں کو اندیشہ ہونے لگا کہ اس گستاخی کے نتیجہ میں کوئی وبال نہ آپڑے۔ وہ حضرت ابراہیم سے بحثیں کرنے لگے۔ انھوں نے آپ کو ڈرایا کہ تم ایسی باتیں نہ کرو، ورنہ ان معبودوں کا غضب تمھارے اوپر نازل ہوگا۔ تم اندھے ہوجاؤ گے، تم پاگل ہوجاؤ گے، تم برباد ہوجاؤ گے، وغیرہ۔

اس دنیا میں صرف خدا کی ایک ذات هے جس کی کبریائی دلیل وبرہان کے اوپر قائم ہے۔ اس کے سوا بڑائی اور معبودیت کی جتنی قسمیں ہیں سب توہماتی عقائد کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ خدا کی خدائی اپنے آپ قائم ہے، جب کہ دوسری تمام خدائیاں صرف ان کے ماننے والوں کی بدولت ہیں۔ اگر ماننے والے نہ مانیں تو یہ خدائیاں بھی بے وجود ہوکر رہ جائیں۔

ظاہري حالات کو دیکھ كران معبودوں کے پرستار اکثر اس دھوکے میں پڑ جاتے ہیں کہ وہ سچے خدا پرستوں کے مقابلہ میں زیادہ محفوظ مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بدترین غلط فہمی ہے۔ محفوظ حیثیت دراصل اس کی ہے جو دلیل او ر برہان پر کھڑاہوا ہے۔ دنیوی رواج سے مصالحت کرکے کوئی شخص اپنے لیے محفوظ دیوار حاصل کرے تو آخری انجام کے اعتبار سے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

جھوٹے معبودوں کا غلبہ کبھی اس نوبت کو پہنچتا ہے کہ سچے خدا پرست بھی اس سے مرعوب ہو کر اس سے سازگاری کرلیتے ہیں۔ دنیوی مصلحتیں اور مادی مفادات ان سے اس درجہ وابستہ ہوجاتے ہیں کہ بظاہر ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ باعزت زندگی حاصل کرنے کي اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ ان معبودوں کے تحت بنے ہوئے ڈھانچہ سے مصالحت کر لی جائے۔ مگر اس قسم کا رویہ اپنے ایمان میں ایسا نقصان شامل کرلینا ہے جو خود ایمان ہی کو خدا کی نظر میں مشتبہ بنا دے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة