تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٥٣:٦
وكذالك فتنا بعضهم ببعض ليقولوا اهاولاء من الله عليهم من بيننا اليس الله باعلم بالشاكرين ٥٣
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍۢ لِّيَقُولُوٓا۟ أَهَـٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنۢ بَيْنِنَآ ۗ أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَعْلَمَ بِٱلشَّـٰكِرِينَ ٥٣
وَكَذَٰلِكَ
فَتَنَّا
بَعۡضَهُم
بِبَعۡضٖ
لِّيَقُولُوٓاْ
أَهَٰٓؤُلَآءِ
مَنَّ
ٱللَّهُ
عَلَيۡهِم
مِّنۢ
بَيۡنِنَآۗ
أَلَيۡسَ
ٱللَّهُ
بِأَعۡلَمَ
بِٱلشَّٰكِرِينَ
٥٣
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 6:53إلى 6:54

آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ صاحب حیثیت لوگ تو دعویٰ رکھتے ہیں کہ اللہ کا انعام اور احسان تو ہم پر ہوا ہے ‘ دولت مند تو ہم ہیں ‘ چودھراہٹیں تو ہماری ہیں۔ یہ جو گرے پڑے طبقات کے لوگ ہیں ان کو ہم پر فضیلت کیسے مل سکتی ہے ؟ مکہ کے لوگ بھی اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر اللہ نے اپنی کتاب نازل کرنی تھی ‘ کسی کو نبوت دینی ہی تھی تو اس کے لیے کوئی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْم منتخب کیا جاتا۔ یعنی یہ مکہ اور طائف جو دو بڑے شہر ہیں ان میں بڑے بڑے سردار ہیں ‘ سرمایہ دار ہیں ‘ بڑی بڑی شخصیات ہیں ‘ ان میں سے کسی کو نبوت ملتی تو کوئی بات بھی تھی۔ یہ کیا ہوا کہ مکہ کا ایک یتیم جس کا بچپن مفلسی میں گزرا ہے ‘ جوانی مشقت میں کٹی ہے ‘ جس کے پاس کوئی دولت ہے نہ کوئی منصب ‘ وہ نبوت کا دعویدار بن گیا ہے۔ اس قسم کے اعتراضات کا ایک اور مسکت جواب اسی سورة کی آیت 124 میں ان الفاظ میں آئے گا : اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ط ’ ’ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کا منصب کس کو دینا چاہیے۔ اور کس میں اس منصب کو سنبھالنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے طالوت کے بارے میں لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ وہ کیسے بادشاہ بن سکتا ہے جبکہ اسے تو مال و دولت کی وسعت بھی نہیں دی گئی : وَلَمْ یُؤْتَ سَعَۃً مِّنَ الْمَالِ ط البقرۃ : 247 ہم دولت مند ہیں ‘ ہمارے مقابلے میں اس کی کوئی مالی حیثیت نہیں۔ اس کا جواب یوں دیا گیا کہ طالوت کو جسم اور علم کے اندر کشادگی بَسْطَۃً فِی الْْعِلْمِ وَالْجِسْمِ عطا فرمائی گئی ہے۔ لہٰذا اس میں بادشاہ بننے کی اہلیت تم لوگوں سے زیادہ ہے۔یہاں رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان غریب و نادار مؤمنین کے ساتھ آپ کا معاملہ کیسا ہونا چاہیے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة