تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

التفسير: الروم ٤٢:٣٠

٤٢:٣٠
قل سيروا في الارض فانظروا كيف كان عاقبة الذين من قبل كان اكثرهم مشركين ٤٢
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ ٤٢
قُلۡ
سِيرُواْ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
فَٱنظُرُواْ
كَيۡفَ
كَانَ
عَٰقِبَةُ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلُۚ
كَانَ
أَكۡثَرُهُم
مُّشۡرِكِينَ
٤٢
قل -أيها الرسول- للمكذبين بما جئت به: سيروا في أنحاء الأرض سير اعتبار وتأمل، فانظروا كيف كان عاقبة الأمم السابقة المكذبة كقوم نوح، وعاد وثمود، تجدوا عاقبتهم شر العواقب ومآلهم شر مآل؟ فقد كان أكثرهم مشركين بالله.
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

قل سیروا فی الارض ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (30: 42) ”(اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ زمین میں چل کر پھر کر دیکھو۔ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے ، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے “۔ ان کا انجام وہ بار بار دیکھتے تھے جب وہ زمین میں پھرتے تھے۔ یہ انجام ایسا تھا جو کسی کو اس رویے پر آمادہ نہ کرتا تھا جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہوا تھا۔ یہاں آکر اب دوسرا راستہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس پر چلنے والے کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ اور ایک دوسرے بلند افق کی طرف ان کی نظریں مبذول کرائی جاتی ہیں جس کی طرف جانے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے۔