تسجيل الدخول
ساهم في مهمتنا
تبرع
ساهم في مهمتنا
تبرع
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٦٢:٢
ان الذين امنوا والذين هادوا والنصارى والصابيين من امن بالله واليوم الاخر وعمل صالحا فلهم اجرهم عند ربهم ولا خوف عليهم ولا هم يحزنون ٦٢
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلنَّصَـٰرَىٰ وَٱلصَّـٰبِـِٔينَ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَعَمِلَ صَـٰلِحًۭا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ٦٢
إِنَّ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
وَٱلَّذِينَ
هَادُواْ
وَٱلنَّصَٰرَىٰ
وَٱلصَّٰبِـِٔينَ
مَنۡ
ءَامَنَ
بِٱللَّهِ
وَٱلۡيَوۡمِ
ٱلۡأٓخِرِ
وَعَمِلَ
صَٰلِحٗا
فَلَهُمۡ
أَجۡرُهُمۡ
عِندَ
رَبِّهِمۡ
وَلَا
خَوۡفٌ
عَلَيۡهِمۡ
وَلَا
هُمۡ
يَحۡزَنُونَ
٦٢
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث

اب وہ آیت آرہی ہے کہ جس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ نجات اخروی کے لیے ایمان بالرسالت ضروری نہیں ہے۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ اور اس سے مراد ہے جو ایمان لائےٌ محمد رسول اللہ ﷺ پر۔وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی“ وَالصّٰبِءِیْنَ صابی وہ لوگ تھے جو عراق کے علاقے میں رہتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہم دین ابراہیمی پر ہیں۔ لیکن ان کے ہاں بھی بہت کچھ بگڑ گیا تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل بگاڑکا شکار ہوگئی تھی اسی طرح وہ بھی بگڑ گئے تھے اور ان کے ہاں زیادہ تر ستارہ پرستی رواج پاگئی تھی۔ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ”وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج“ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ان لوگوں کو نہ تو کوئی خوف دامن گیر ہوگا اور نہ ہی وہ کسی حزن سے دوچار ہوں گے۔ ظاہر الفاظ کے اعتبار سے دیکھیں تو یہاں ایمان بالرسالت کا ذکر نہیں ہے۔ اگر کوئی اس سے غلط استدلال کرتا ہے تو اس کا پہلا اصولی جواب تو یہ ہے کہ بعض احادیث میں ایسے الفاظ بھی موجود ہیں : مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ تو کیا اس کے یہ معانی ہیں کہ صرف لا الٰہ الاّ اللہ کہنے سے جنت میں داخل ہوجائیں گے ‘ کسی عمل کی ضرورت نہیں ؟ بلکہ کسی حدیث کا مفہوم اخذ کرنے کے لیے پورے قرآن کو اور پورے ذخیرۂ احادیث کو سامنے رکھنا ہوگا۔ کسی ایک جگہ سے کوئی نتیجہ نکال لینا صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس کے علاوہ چھٹے رکوع کے آغاز میں یہ اصولی بات بھی بیان کی جا چکی ہے کہ سورة البقرۃ کا پانچواں رکوع چھٹے رکوع سے شروع ہونے والے سارے مضامین سے ضرب کھا رہا ہے ‘ جس میں ٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والے قرآن پر ایمان لانے کی پرزور دعوت بایں الفاظ موجود ہے :وَاٰمِنُوْا بِمَا اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ وَلَا تَکُوْنُوْا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖص”اور ایمان لاؤ اس کتاب پر جو میں نے نازل کی ہے ‘ جو تصدیق کرتے ہوئے آئی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے ‘ اور تم ہی سب سے پہلے اس کا کفر کرنے والے نہ بن جاؤ۔“اب فصاحت اور بلاغت کا یہ تقاضا ہے کہ ایک بات بار بار نہ دہرائی جائے۔ البتہ یہ بات ہر جگہ مقدر understood سمجھی جائے گی۔ اس لیے کہ ساری گفتگو اسی کے حوالے سے ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے اب یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ میں ”فِیْ اَیَّامِھِمْ“ یا ”فِیْ اَزْمِنَتِھِمْ“ اپنے اپنے دور میں کے الفاظ محذوف مانے جائیں گے۔ گویا : ّ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِءِیْنَ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً [ فِیْ اَ یَّامِھِمْ ] فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی نجات اخروی کے لیے اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان کے ساتھ ساتھ اپنے دور کے نبی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ چناچہ جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں آئے تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے جو بھی یہودی موجود تھے ‘ جو اللہ پر ایمان رکھتے تھے ‘ آخرت کو مانتے تھے اور نیک عمل کرتے تھے ان کی نجات ہوجائے گی۔ لیکن جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کے بعد ان علیہ السلام کو نہیں مانا تو اب وہ کافر قرار پائے۔ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام رسولوں پر ایمان نجات اخروی کے لیے کافی تھا ‘ لیکنٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ پر ایمان نہ لانے والے کافر قرار پائیں گے۔آیت زیر مطالعہ میں اصل زور اس بات پر ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ کسی گروہ میں شامل ہونے سے نجات پا جاؤ گے ‘ نجات کسی گروہ میں شامل ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ‘ بلکہ نجات کی بنیاد ایمان اور عمل صالح ہے۔ اپنے دور کے رسول پر ایمان لانا تو لازم ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ اگر عمل صالح نہیں ہے تو نجات نہیں ہوگی۔ قرآن مجید کے ایک مقام پر آیا ہے : وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ج الاعراف : 34 ”اور ہر امت کے لیے ایک خاص معینّ مدت ہے“۔ ہر امت اس معینہّ مدت ہی کی مکلف ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے فوت ہوگئے ان پر تو آپ ﷺ پر ایمان لانے کی کوئی ذمہ داری نہیں تھی۔ بعثت نبوی ﷺ سے قبل ایسے موحدین مکہ مکرمہ میں موجود تھے جو کعبہ کے پردے پکڑ پکڑ کر یہ کہتے تھے کہ اے اللہ ! ہم صرف تیری بندگی کرنا چاہتے ہیں ‘ لیکن جانتے نہیں کہ کیسے کریں۔ حضرت عمر رض کے بہنوئی اور فاطمہ رض بنت خطاب کے شوہر حضرت سعید بن زید رض جو عشرہ مبشرہّ میں سے ہیں کے والد زید کا یہی معاملہ تھا۔ وہ یہ کہتے ہوئے دنیا سے چلے گئے کہ : ”اے اللہ ! میں صرف تیری بندگی کرنا چاہتا ہوں ‘ مگر نہیں جانتا کہ کیسے کروں۔“ سورۃ الفاتحہ کے مطالعہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ ایک سلیم الفطرت اور سلیم العقل انسان توحید تک پہنچ جاتا ہے ‘ آخرت کو پہچان لیتا ہے ‘ لیکن آگے وہ نہیں جانتا کہ اب کیا کرے۔ احکام شریعت کی تفصیل کے لیے وہ ”ربّ العَالَمِین“ اور ”مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ کے حضور دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہے کہ : اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اسی صراط ‘ مستقیم کی دعا کا جواب یہ قرآن حکیم ہے ‘ اور اس میں سورة البقرۃ ہی سے احکام شریعت کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے کہ یہ کرو ‘ یہ نہ کرو ‘ یہ فرض ہے ‘ یہ تم پر لازم کیا گیا ہے اور یہ چیزیں حرام کی گئی ہیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة