تسجيل الدخول
ساهم في مهمتنا
تبرع
ساهم في مهمتنا
تبرع
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة
٤٢:١٣
وقد مكر الذين من قبلهم فلله المكر جميعا يعلم ما تكسب كل نفس وسيعلم الكفار لمن عقبى الدار ٤٢
وَقَدْ مَكَرَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلِلَّهِ ٱلْمَكْرُ جَمِيعًۭا ۖ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍۢ ۗ وَسَيَعْلَمُ ٱلْكُفَّـٰرُ لِمَنْ عُقْبَى ٱلدَّارِ ٤٢
وَقَدۡ
مَكَرَ
ٱلَّذِينَ
مِن
قَبۡلِهِمۡ
فَلِلَّهِ
ٱلۡمَكۡرُ
جَمِيعٗاۖ
يَعۡلَمُ
مَا
تَكۡسِبُ
كُلُّ
نَفۡسٖۗ
وَسَيَعۡلَمُ
ٱلۡكُفَّٰرُ
لِمَنۡ
عُقۡبَى
ٱلدَّارِ
٤٢
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 13:40إلى 13:42

خدا کے دین کو اختیار کرنے کا انجام عام طورپر آخرت میں سامنے آتا ہے۔ مگر پیغمبر کے مخاطبین اگر پیغمبر کی دعوت کا انکار کردیں تو اس کا برا انجام ان کے لیے موجودہ دنیا ہی سے شروع ہوجاتاہے۔

تاہم اس دنیوی انجام کاکوئی ایک اصول نہیں۔ یہ مختلف پیغمبروں کے زمانہ میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص مصالح کی بنا پر خدا کا یہ فیصلہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ پیغمبر کے متبعین کو پیغمبر کے منکرین پر غالب کردیا گیا۔

مکی دور کے آخری زمانہ میں جب کہ مکہ کے سرداروں نے آپ کا انکار کردیا تھا، عین اسی وقت یہ ہورہا تھا کہ اسلام کی دعوت دھیرے دھیرے مدینہ میں اور مکہ کے بیرونی قبائل میں پھیل رہی تھی۔ گویا اسلام کی دعوتی قوت مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی مکہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ پیغمبر آخر الزماں کے لیے خدا کی سنت دعوتی فتوحات کی صورت میں ظاہر ہوئی۔

یہاں دعوتی تدبیر کو خدائی تدبیر کہاگیا ہے۔ اس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے۔ قریش نے جب مکہ سے آپ کو نکالا تو انھوںنے یہ سمجھا تھا کہ انھوں نے آپ کا خاتمہ کردیا ہے۔ اس وقت آپ ایک ایسے شخص تھے جس کی معاشیات برباد ہوچکی تھی۔ جس کو خود اپنے قبیلہ کی حمایت سے محروم کردیا گیا تھا۔

قریش یہ سب کرکے اپنے طورپر خوش تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ انھوںنے پیغمبر کے ’’مسئلہ‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے کہ داعی کا سب سے بڑا ہتھیار دعوت ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی شخص کبھی داعی سے چھین نہیں سکتا۔ داعی کی دوسری محرومیاں اس کے داعیانہ زور کو اور بڑھا دیتی ہیں، وہ کسی طرح اس کو کم نہیں کرتیں۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ قریش اپنے خیال کے مطابق پیغمبر سے اس کا سب کچھ چھین چکے تھے، اس کی دعوت چاروں طرف عرب کے قبائل میں پھیل رہی تھی۔ لوگوں کے دل اس سے مسخر ہوتے جارہے تھے۔ یہ عمل خاموشی کے ساتھ مسلسل جاری تھا۔ اور فتح مکہ گویا اسی کا انتہائی نقطہ تھا — مکہ والوں نے جن لوگوں کو ’’دس سو‘‘ سمجھ کر گھر سے بے گھر کیا تھا وہ صرف چند سال میں ’’دس ہزار‘‘ بن کر دوبارہ مکہ میں اس طرح واپس آئے کہ مکہ والوں کو یہ ہمت بھی نہ تھی کہ ان کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کریں۔

حق کی دعوت سے جن لوگوں کے مفادات پر زد پڑتی ہے وہ اس کو زیر کرنے کے لیے اس کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں۔ مگر تمام تدبیروں کا سرا خداکے ہاتھ میں ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر پورا اختیار رکھتاہے۔ خدا کی اس برتر حیثیت کا ابتدائی ظہور اسی موجودہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ اس کا کامل اور انتہائی ظہور آخرت میں ہوگا جب کہ اندھے بھی اس کو دیکھ لیں اور بہرے بھی اس کو سننے لگیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة