الَّذِیْنَ
یَذْكُرُوْنَ
اللّٰهَ
قِیٰمًا
وَّقُعُوْدًا
وَّعَلٰی
جُنُوْبِهِمْ
وَیَتَفَكَّرُوْنَ
فِیْ
خَلْقِ
السَّمٰوٰتِ
وَالْاَرْضِ ۚ
رَبَّنَا
مَا
خَلَقْتَ
هٰذَا
بَاطِلًا ۚ
سُبْحٰنَكَ
فَقِنَا
عَذَابَ
النَّارِ
۟
(خردمندان) آنانیاند که الله را (به حالت) ایستاده، و نشسته، و بر پهلو آرامیده یاد میکنند، و در (حکمت از) آفریدن آسمانها و زمین تفکر میکنند (و در دعای خود میگویند:) ای پرودگار ما! این (عالم و موجودات) را بیفائده نه آفریده ای، پاکی تو (از آنچه لایق شأن تو نیست) پس ما را از عذاب دوزخ نگاه دار.
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭…
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا کیا معجزات لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا اژدھابن جانے والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے پاس گئے ان سے کہا تم
مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غرو فکر ٭٭…
طبرانی میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریش یہودیوں کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ سیدن