(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے بڑے غور سے سنا تو انہوں نے (جا کر دوسرے جنات سے) کہا کہ ہم نے سنا ہے ایک بہت ہی دل کو لبھانے والا قرآن۔
اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سن گن لینے کے لیے۔ لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک انگارہ گھات میں لگا ہوا۔
اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت (الہدیٰ) کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔ تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔
بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔ اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔
یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔
تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔