والارض وما طحھا (6:91) ” اور زمین اور اس کے بچھائے جانے کی قسم “۔ طحی الطحو سے ہے جس کے معنی بچھانے کے ہیں ، جس طرح الدحو کا مفہوم ہے بچھانا ، اور زندگی کے لئے ہموار کرنا۔ اور یہ ایک عظیم اور نمایاں حقیقت ہے جس کے اوپر انسانوں اور تمام حیوانوں کی زندگی کا دارومدار ہے۔ آسمان و زمین کے اندر اللہ نے جو ہم آہنگی پیدا فرمائی ہے ، یہ اسی کی برکت ہے جس کی وجہ سے یہاں زندگی ممکن ہوئی اور یہ سب کام صرف اللہ کے تدبیر اور اندازوں کی وجہ سے ہوا ۔ ہمارے لئے یہی واضح اور ظاہری حقیقت کافی ہے کہ اگر ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے کوئی چیز بھی خلل پذیر ہوجائے تو نہ اس زمین میں زندگی کا وجود ہوتا اور نہ یہ زندگی اس انداز پر چلتی۔ زمین کا ” الطحو “ جو یہاں استعمال ہوا ہے یا ” الدحو “ جو سورة نازعات (31'30) میں استعمال ہوا ہے۔
والارض ................................ ومرعھا (31:79) ” زمین کو اس کے بعد بچھایا اور اس کا پانی اور اس میں سے نباتات نکالی “۔ دونوں مفہوم بچھانا ہے اور یہ بچھانا ان خصائص اور ہم آہنگیوں میں سے بڑی ہم آہنگی ہے۔ اور یہ صرت دست قدرت کا کارنامہ ہے۔ یہاں اس بچھانے کا ذکر کرکے اشارہ قدرت الٰہیہ کی طرف ہے اور قلب انسانی کو اس بات پر اکسایا جاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرے اور نصیحت حاصل کرے۔
ان قسموں اور ان کے اندر پائے جانے والے مظاہر کائنات اور مناظر فطرت کے بعد اب نفس انسانی کے عظیم حقائق پیش کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس کائنات کے عجائبات میں یہ عظیم ترعجوبہ ہے۔ جو اس زمین و آسمان کی ان ہم آہنگیوں کی وجہ سے قائم ہے۔