undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 16{ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ۔ } ”یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔“ یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل ُ حب ِمال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورة الحدید کی آیت 18 کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چناچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے پیارے مال کو اللہ تعالیٰ کی محبت پر قربان کردیا جائے۔ یاد رکھیں ! حب مال کی گندگی کو دل سے نکالے بغیر انسان کو ایمان کی حلاوت نصیب نہیں ہوسکتی۔ اس مضمون کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحدید آیات 17 تا 20 کی تشریح۔

Maximize your Quran.com experience!
Start your tour now:

0%