یَّوْمَ
یُحْمٰی
عَلَیْهَا
فِیْ
نَارِ
جَهَنَّمَ
فَتُكْوٰی
بِهَا
جِبَاهُهُمْ
وَجُنُوْبُهُمْ
وَظُهُوْرُهُمْ ؕ
هٰذَا
مَا
كَنَزْتُمْ
لِاَنْفُسِكُمْ
فَذُوْقُوْا
مَا
كُنْتُمْ
تَكْنِزُوْنَ
۟
The Day ˹will come˺ when their treasure will be heated up in the Fire of Hell, and their foreheads, sides, and backs branded with it. ˹It will be said to them,˺ “This is the treasure you hoarded for yourselves. Now taste what you hoarded!”
تفسیر پڑھیں
تفسیر ابنِ کثیر
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں یہود کے علماء کو احبار کہا گیا ہے۔ نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان اور ان کے علماء کو قسیس اس آیت میں کہا گیا ہے «ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ
باب…
یہودیوں کے علماء کو احبار اور نصرانیوں کے عابدوں کو رہبان کہتے ہیں۔ «لَوْلَا يَنْھٰىهُمُ الرَّبّٰنِيُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ» [5-المآئدہ:63] میں