Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
75:13
ينبا الانسان يوميذ بما قدم واخر ١٣
يُنَبَّؤُا۟ ٱلْإِنسَـٰنُ يَوْمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَأَخَّرَ ١٣
يُنَبَّؤُاْ
ٱلۡإِنسَٰنُ
يَوۡمَئِذِۭ
بِمَا
قَدَّمَ
وَأَخَّرَ
١٣
All will then be informed of what they have sent forth and left behind.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith

آیت 13{ یُـنَـبَّـؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَئِذٍم بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ۔ } ”جتلا دیا جائے گا انسان کو اس دن جو کچھ اس نے آگے بھیجا ہوگا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہوگا۔“ تقدیم و تاخیر کے اس فلسفے کو یوں سمجھیں کہ ہمارے اچھے برے اعمال کے بدلے کا ایک حصہ تو ہماری زندگیوں میں ہی آخرت کے لیے ہمارے اعمال نامے میں جمع credit ہوتا رہتا ہے ‘ جبکہ ان اعمال کا ایک دوسراحصہ اچھے یا برے اثرات کی صورت میں اسی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ یہ ”اثرات“ اس دنیا میں جب تک موجود رہتے ہیں ‘ ان کے بدلے میں بھی ثواب یا گناہ متعلقہ شخص کے اعمال نامے میں متواتر شامل ہوتا رہتا ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو واضح طور پر بتادیا جائے گا کہ تمہاری یہ نیکیاں یا بدیاں تو وہ ہیں جو تم نے براہ راست خود اپنے لیے آگے بھیجی تھیں اور یہ ثواب یا وبال وہ ہے جو تمہارے اعمال کے پیچھے رہ جانے والے اثرات کی وجہ سے تمہارے حساب میں جمع ہوتا رہا۔