3

آخر میں حضرت نوح (علیہ السلام) لوگوں کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے زمین کے اندر تمہارے لئے کیا کیا سہولیات پیدا کی ہیں۔ اس زمین کو تمہارے لئے مسخر کیا ، سدھایا۔ اس میں تمہارے زندہ رہنے کے لئے تمام سہولیات رکھ دیں۔

واللہ جعل ................ فجاجا (17 : 02) ” اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھا دیا تاکہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو “۔

یہ حقیقت جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے لوگوں کے سامنے پیش کی اور ان کے سامنے موجود تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی باتوں سے وہ تو بھاگتے تھے لیکن ان میں جو حقائق تھے ، ان سے ان کے لئے فرار مشکل تھا۔ یہ زمین ان کے سامنے بچھی ہوئی تھی۔ یہ پہاڑ موجود تھے ، یہ وادیاں موجود تھیں اور ان وادیوں کی راہوں پر ہی وہ چلتے تھے۔ پیدل بھی چلتے ، سوار ہوکر بھی چلتے اور تیر کر بھی چلتے۔ اور اس کے اندر اللہ کے جو فضل وکرم بکھرے ہوئے تھے ان سے وہ استفادہ کرتے تھے اور نہایت ہی آسانی سے وہ استفادہ کرتے تھے۔

یہ حقائق وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ، اس سلسلے میں کسی گہری علمی تحقیق کی ضرورت نہ تھی۔ یہ اصول فطرت تھے اور ان کے مشاہدے اور تجربے میں تھے۔ اور ان حقائق کے اندر وہ زندہ رہ رہے تھے۔ ہاں جوں جوں انسان نے علمی ترقی کی اس نے ان حقائق کے مزید پہلو معلوم کرلیے۔ جس کے بارے میں قرآن کی ہدایت بھی ہے کہ تم زمین میں پھرو اور نصیحت حاصل کرو۔

ھوالذی ................................ النشور ( سورة ملک)

یوں حضرت نوح (علیہ السلام) نے کوشش کی کہ اپنی قوم کے کانوں میں کسی نہ کسی طرح کلمہ حکمت ڈال دیں ، مختلف طریقوں اور مختلف اسالیب کے ذریعہ اور اس کے لئے انہوں نے مختلف انداز اختیار کیے اور طویل عرصہ اس کام میں لگایا۔ صبر جمیل کے ساتھ اور ان تھک جدوجہد کے ساتھ ، ساڑھے نو سو سال مسلسل ! اس کے بعد اب حضرت نوح (علیہ السلام) رب تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں ، جس رب تعالیٰ نے ان کو یہ مشن دیا تھا۔ رپورٹ پیش کرتے ہیں نہایت تفصیلی رپورٹ ہے یہ ۔ یہ رپورٹ نہایت ہی درد ناک لہجے میں ہے اور نہایت موثر الفاظ میں ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے کس قدر جدوجہد کی۔ انہوں نے گم کردہ راہ انسانیت کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے کیا کچھ کیا ۔ لیکن یہ تو سلسلہ رسالت کی ایک ہی کڑی ہے۔