3

کلا انا ................ یعلمون

یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا ان کی اس تمنا اور خوش فہمی کو نہایت حقارت کے ساتھ رد کیا جاتا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے پیدا کیا ہے۔ قرآن کریم ان کو اپنی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ یوں ان کے اندر جو کبرو غرور اور تکبر وعلو تھا اسے ملیامیٹ کردیا جاتا ہے اور ان کے غزور کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے۔ اور یہ صرف ایک لفظ کے ذریعہ۔ ایک اشارہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ہم نے ان کو کس چیز سے پیدا کیا ہے۔ انسان کی کمزوری ، ناتوانی اور بےوزنی کی بہترین تصویر ہے۔ تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ کس طرح یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے ہیں جبکہ ان کے افعال ایسے ہیں۔ پھر وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ ان کو دیکھنا چاہئے کہ ان کے مدارج تخلیق کیا ہیں۔ اللہ کے ہاں ان کی اہمیت ، ان کے اس کفر کی وجہ سے ، مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ ان کو تو ان کے کفر کی وجہ سے جہنم کی آگ کی لپیٹ میں جانا ہے۔ یہ کس طرح اللہ کی نعمتوں کی توقع کرتے ہیں۔

ان کے معاملے کو غیر اہم سمجھتے ہوئے اور ان کی اہمیت کو کم دکھاتے ہوئے اور ان کی بڑائی کے بت توڑتے ہوئے اللہ اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے کہ اگر یہ ہدایت نہیں حاصل کرتے تو اللہ ان کے مقابلے میں اچھے لوگوں کو پیدا کردے گا۔ یہ اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور یہ اپنے اسی انجام تک جا پہنچیں گے جس کے وہ مستحق ہیں۔