Sign in
Sign in
Sign in
Select Language
6:9
ولو جعلناه ملكا لجعلناه رجلا وللبسنا عليهم ما يلبسون ٩
وَلَوْ جَعَلْنَـٰهُ مَلَكًۭا لَّجَعَلْنَـٰهُ رَجُلًۭا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ ٩
وَلَوۡ
جَعَلۡنَٰهُ
مَلَكٗا
لَّجَعَلۡنَٰهُ
رَجُلٗا
وَلَلَبَسۡنَا
عَلَيۡهِم
مَّا
يَلۡبِسُونَ
٩
And if We had sent an angel, We would have certainly made it ˹assume the form of˺ a man—leaving them more confused than they already are.
Tafsirs
Layers
Lessons
Reflections
Answers
Qira'at
Hadith
You are reading a tafsir for the group of verses 6:7 to 6:10

لوگ دنیا کو ہار جیت (تغابن) کی جگہ سمجھتے ہیں۔ کسی شخص کو یہاں کامیابی مل جائے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جو شخص یہاں ناکامی سے دو چار ہو وہ لوگوں کی نظر میں حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہار بھی بے قیمت ہے اور یہاں کی جیت بھی بے قیمت۔

ہار جیت کا اصل مقام آخرت ہے۔ ہارنے والا وہ ہے جو آخرت میں ہارے اور جیتنے والا وہ ہے جو آخرت میں جیتے، اور وہاں کی ہار جیت کا معیار بالکل مختلف ہے۔ دنیا میں ہار جیت ظاہری مادیات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اور آخرت کی ہار جیت خدائی اخلاقیات کی بنیاد پر ہوگی۔ اس وقت دیکھنے والے یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ یہاں سارا معاملہ بالکل بدل گیا ہے۔ جس پانے کو لوگ پانا سمجھ رہے تھے وہ در اصل کھونا تھا، اور جس کھونے کو لوگوں نے کھونا سمجھ رکھا تھا، وہی در اصل وہ چیز تھی جس کو پانا کہا جائے۔ اسی دن کی ہار ہار ہے اور اسی دن کی جیت جیت۔