سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن الأنعام کی تفسیر، آیت 8

6:8
وقالوا لولا انزل عليه ملك ولو انزلنا ملكا لقضي الامر ثم لا ينظرون ٨
وَقَالُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌۭ ۖ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَكًۭا لَّقُضِىَ ٱلْأَمْرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨
وَقَالُوْا
لَوْلَاۤ
اُنْزِلَ
عَلَیْهِ
مَلَكٌ ؕ
وَلَوْ
اَنْزَلْنَا
مَلَكًا
لَّقُضِیَ
الْاَمْرُ
ثُمَّ
لَا
یُنْظَرُوْنَ
۟
اور وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اترا ان پر (علانیہ) کوئی فرشتہ ؟ اور اگر ہم نے فرشتہ اتاردیا ہوتا تو پھر فیصلہ ہی چکا دیا جاتا پھر انہیں کوئی مہلت نہ ملتی۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 8 وَقَالُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لاَ یُنْظَرُوْنَ یعنی اس دنیا کی زندگی میں یہ جو ساری آزمائش ہے وہ تو غیب کے پردے ہی کی وجہ سے ہے۔ اگر غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر امتحان ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد تو پھر نتیجے کا اعلان کرنا ہی باقی رہ جاتا ہے